تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 213 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 213

تاریخ احمدیت 213 جلد 21 بیگم صاحبہ کو بشارات دیں۔چنانچہ چند ماہ کے اندر اندر حالات نے پلٹا کھایا اور چند سال میں ہی آپ کی مالی پوزیشن خاصی مضبوط ہو گئی۔27 اپریل 1943 ء کو آپ نے نصرت آبا دا سٹیٹ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے شکریہ اور کارکنوں کی خدمت کے عملی اعتراف کے لئے جلسہ کیا اور کارکنوں کو 700 روپے کے انعامات دئے۔اس موقعہ پر آپ نے ایک مفصل تقریر بھی کی جسمیں بتایا کہ :- میں اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دو بیٹیوں کا خادم سمجھتا ہوں۔میری ساری کوشش اور محنت اس لئے ہے کہ اس پاک وجود کے جگر پارے آرام پائیں جن میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک کو میرے والد اور ایک کو میرے سپر د کیا ہے۔میرے دونوں بچے اللہ تعالیٰ کی خدمت کے لئے وقف ہیں۔میں یہاں اس لئے کام کر رہا ہوں ( کہ ) وہ خدا اور رسول کے چمن کے مالی بنے رہیں۔وہ اپنے روز گار کی فکر سے آزا در ہیں وہ صرف اللہ کے بندے بنے رہیں۔ان کو کسی غیر کے سامنے دست سوال دراز کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔180 26 اگست 1947ء کو آپ خواتین مبارکہ کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان پہنچے۔یکم ستمبر 1947 ء کو حضرت مصلح موعود نے جو دھامل بلڈنگ (لاہور) میں صدر انجمن احمدیہ کی بنیا د رکھی اور اس کا اولین ناظر آپ کو نامزد فرمایا۔یہ انتہائی مشکلات کا دور تھا۔قادیان کی آبادی کا بڑا حصہ ابھی وہیں تھا اور عملہ نا کافی تھا۔آپ کو انتہائی محنت شاقہ کرنی پڑی۔مصیبت زدہ احمدی مہاجر اپنی جمع شده امانتی رقوم حاصل کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں آتے۔آپ فورا ساتھ ہو لیتے اور بعض دفعہ حساب جلدی میں نہ مل سکتا تو اپنی شخصی ضمانت پر روپیہ دلوا دیتے تا تکلیف نہ ہو۔آپ کی بشاشت اور حسن سلوک سے زخمی دل مہاجروں کو بہت آرام پہنچا۔نئے مرکز کے لئے موجودہ ربوہ کی زمین خریدنے کا فیصلہ ہوا تو جو درخواست حکومت کے نام خریداری کے لئے لکھی گئی اس پر آپ ہی کے دستخط تھے۔1 182- 8 فروری 1949ء کو جبکہ آپ اپنے دفتر میں مفوضہ فرائض انجام دے رہے تھے آپ کے معدہ اور دل میں یکا یک تکلیف ہونی شروع ہوئی۔آپ گھر سے دوا لینے کے لئے باہر تشریف لائے مگر جو نہی رتن باغ میں پہنچے آپ گر پڑے۔یہ کا رونی تھر مبوسس کا ایک شدید قسم کا حملہ تھا جس میں دل کی شریانوں میں خون منجمد ہو جاتا ہے اور عارضی طور پر دل کی حرکت بند ہو جاتی ہے۔اکثر اوقات تو لوگ اس حملہ سے جانبر نہیں ہو سکتے۔ڈیڑھ دو گھنٹہ بعد کچھ افاقہ ہوا جس کے بعد دوبارہ شدید حملہ ہوا اور ساتھ ہی تشیخ بھی۔صورت حال انتہائی تشویش انگیز ہوگئی حتی کہ لاہور کے مشہور و معروف ڈاکٹر محمد یوسف صاحب زندگی سے بالکل مایوس