تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 12
تاریخ احمدیت 12 سے ہماری اجتماعی زندگی متاثر نہیں ہوتی۔اسی طرح مخصوص اوقات مخصوص انداز سے عبادت کر لینا بھی بے سود ہے۔اگر وہ ہماری ہیئت اجتماعی پر اثر انداز نہیں ہوتا۔تاریخ و عقل دونوں کا فیصلہ یہی ہے۔پھر غور کیجئے کہ اس وقت احمدی جماعت کے علاوہ مسلمانوں کی وہ کونسی دوسری جماعت ایسی ہے جو زندگی کے صرف عملی پہلو کو اسلام سمجھتی ہو۔اور محض عقائد کو مذہب کی بنیا د قرار نہ دیتی ہو۔میں نے جب سے آنکھ کھولی مسلمانوں کو باہم دست وگریباں ہی دیکھا۔سنی، شیعہ، اہل قرآن، اہل حدیث ، دیوبندی، غیر دیوبندی وہابی، بدعتی اور خدا جانے کتنے ٹکڑے مسلمانوں کے ہو گئے جن میں سے ہر ایک دوسرے کو کافر کہتا تھا۔اور کوئی ایک شخص ایسانہ تھا جس کے مسلمان ہونے پر سب کو اتفاق ہو۔ایک طرف خود مسلمانوں کے اندر اختلاف و تضاد کا یہ عالم تھا اور دوسری طرف آریائی و عیسوی جماعتوں کا حملہ اسلامی لٹریچر اورا کا بر اسلام پر کہ اسی زمانہ میں میرزاغلام احمد صاحب سامنے آئے اور انہوں نے تمام اختلافات سے بلند ہو کر دنیا کے سامنے اسلام کا وہ صحیح مفہوم پیش کیا جسے لوگوں نے بھلا دیا تھا یا غلط سمجھا تھا یہاں نہ بوبکر و علی کا جھگڑا تھا نہ رفع یدین و آمین بالجہر کا اختلاف، یہاں نہ عمل بالقرآن کی بحث تھی نہ استناد بالحدیث کی۔اور صرف ایک نظریہ سامنے تھا اور وہ یہ کہ اسلام نام ہے صرف اسوۂ رسول کی پابندی کا۔اور اس عملی زندگی کا۔اُس ایثار و قربانی کا۔اس محبت و رافت کا۔اس اخوت و ہمدردی کا اور اس حرکت و عمل کا جو رسول اللہ کے کردار کی تنہا خصوصیت اور اسلام کی تنہا اساس و بنیا تھی۔میرزا غلام احمد صاحب نے اسلام کی مدافعت کی اور اس وقت کی جب کوئی بڑے سے بڑا عالم دین بھی دشمنوں کے مقابلہ میں آنے کی جرات نہ کر سکتا تھا انہوں نے سوئے ہوئے مسلمانوں کو جگایا اٹھایا اور چلایا یہاں تک کہ وہ چل پڑے اور ایسا چل پڑے کہ آج روئے زمین کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو ان کے نشانات قدم سے خالی ہو۔اور جہاں وہ اسلام کی صحیح تعلیم نہ پیش کر رہے ہوں۔پھر ہو سکتا ہے کہ آپ ان حالات سے متاثر نہ ہوں لیکن میں تو یہ کہنے اور سمجھنے پر مجبور ہوں کہ یقیناً بہت بڑا انسان تھا وہ جس نے ایسے سخت وقت میں اسلام کی جانبازانہ مدافعت کی اور قرونِ اولیٰ کی اس تعلیم کو زندہ کیا جس کو دنیا بالکل فراموش کر چکی تھی۔18 جلد 21