تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 10
تاریخ احمدیت 10 جلد 21 اس لیکچر کو ہند و سکھ اور مسلم سنجیدہ معززین نے بے حد پسند کیا اور مولانا صاحب سے درخواست کی گئی کہ سرینگر سے واپسی پر ایک اور لیکچر مٹھا چوک میں دیں۔ایک نائیجیرین صحافی کے تاثرات : 66 16 کراچی کی جماعت احمدیہ اور مجلس خدام الاحمدیہ نے نائیجیرین صحافی جناب اولہ باسی اجالہ کے اعزاز میں ایک پارٹی دی۔مسٹرا حالہ نے اس موقع پر کھلا اعتراف کیا کہ احمدی مبلغین اسلام کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں۔اس سلسلہ میں جناب ناصر اقبال صاحب انچارج شعبہ نشر واشاعت جماعت احمدیہ کراچی کے قلم سے الفضل 22 اکتوبر 1962 ، صفحہ 5 پر حسب ذیل رپورٹ شائع ہوئی: جماعت احمدیہ کراچی کی طرف سے نائیجیرین جرنلسٹ جناب اولہ باسی اجالہ کو ایک عصرانہ دیا گیا افتتاحی تقریر میں جناب با بو اللہ داد صاحب نے بتایا کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ اسلام تمام دنیا میں پھیل رہا ہے اور دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں اسلام کا پیغام پہنچانے کی سعادت جماعت کو حاصل نہ ہوئی ہو۔مسٹر جالہ نے اپنی تقریر میں جماعت کا ریہ ادا کیا اور بتایا کہ ہمارے براعظم افریقہ میں ہزاروں پاکستانی اور ہندوستانی آباد ہیں۔لیکن ان کے کردار اتنے بلند نہیں جتنے اعلیٰ کردار کے مالک جماعت احمدیہ کے مبلغین ہیں ان مخلص نوجوانوں کے بلند اخلاق اور اعلیٰ کردار کی وجہ سے میرے ملک کے لوگ کافی متاثر ہیں۔یہ لوگ اسلام کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسلام میں لوگ جوق در جوق داخل ہو رہے ہیں آپ نے بتایا کہ آج ایٹمک دور میں دنیا کو مذہب کی بڑی ضرورت ہے کیونکہ مذہب کے بغیر دنیا کی بقاء ممکن نہیں۔دنیا کو مذہب کا پیغام پہنچانے کا کام جماعت احمد یہ بڑے احسن طریق پر انجام دے رہی ہے۔مجلس خدام الا احمد یہ کراچی کی طرف سے دی گئی ایک دعوت میں مسٹرا حالہ نے بتایا کہ افریقہ میں جہاں کہیں بھی جماعت قائم ہے وہاں سوشل ویلفیئر کے ادارے بھی ضرور ہیں۔جماعت نے اپنے خرچ سے وہاں کالج سکول اور دواخانہ قائم کئے ہوئے ہیں۔ہم افریقن جماعت احمدیہ کی خدمات کی تہہ دل سے قدر کرتے ہیں۔مسٹر جالہ اپنی موٹر سائیکل پر تمام دنیا کا دورہ کر رہے ہیں۔آج کل وہ اپنے حالات سفر پاکستان کے مشہور روزنامہ ڈان میں قسط وار تحریر کر رہے ہیں آپ نے کہا کہ