تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 169
تاریخ احمدیت 169 جلد 21 ہنوز کرایہ کے مکان میں تھا۔جہاں دو دن متواتر حضرت میاں صاحب نے احباب جماعت کو تفصیلی خطاب سے مشرف کیا۔مشن کی کامیابی دیکھ کر حضرت میاں صاحب نے وعدہ کیا کہ مرکز جاتے ہی وہ یہاں جماعت کے اپنے مرکز کے لئے رقم بھجوائیں گے۔جو بھجوائی گئی جس سے ایک مناسب جگہ پر ایک قطعہ زمین بمع چند کمروں کے خریدا گیا۔یہاں ایک عارضی بیت الذکر فی الفور تعمیر کی گئی۔اور مشن کی ترقی بفضل الہی نمایاں طور پر مستقل بنیادوں پر شروع ہو گئی۔بعد میں اسی پلاٹ سے ملحقہ پلاٹ بھی خریدا گیا۔اور احباب جماعت کی مالی قربانیوں سے ایک پلاٹ پر دو منزلہ عمارت تعمیر کی گئی۔جس میں پہلی منزل پر احمد یہ پبلک سکول کے لئے آٹھ کمرے تعمیر کئے گئے۔جس کے اوپر 80×40 کی مسقف بیت الذکر تعمیر ہوئی۔دوسرے پلاٹ پر احمد یہ کلینک کی دومنزلہ عمارت تعمیر کی گئی۔جہاں اب ماریشس والے مکرم ڈاکٹر نظام بدھن صاحب نے احمد یہ کلینک کھولا ہے۔جو بفضلہ تعالیٰ سرعت سے کامیابی کی منازل طے کر رہا ہے۔انہیں دونوں پلاٹوں پر مبلغین، معلمین اور نرسوں کے لئے رہائشی کمرے بھی ہیں۔فالحمد لله اولاً وآخراً۔اس وقت جماعت احمدیہ کا یہ دارالتبلیغ نہ صرف آئیوری کوسٹ بلکہ ملحقہ فرانسیسی مقبوضات اپر وولٹا، نائیجر، مالی، سینیگال، موریتانیہ اور گنی میں فرنچ زبان میں اسلامی لٹریچر کی اشاعت اور تبلیغ اسلام کے فرائض بجالا رہا ہے۔ہمارے ایک احمدی طالب علم احمد ٹورے نے ملک مالی کے دو تبلیغی دورے کئے ہیں۔ان کے ہاتھ بہت سارا اسلامی لٹریچر عربی اور فرنچ زبان میں بھیجوایا گیا۔اسی طرح مکرم عبد اللہ کی بالی صدر جماعت احمد یہ آبی جان نے ملک مالی۔اپر ولٹا اور لائبیریا کا تبلیغی دورہ کیا۔ایک اور طالب علم داؤد نے لائبیریا اور سیرالیون اور گنی کا تبلیغی دورہ کیا۔الغرض ہر ممکن طریق سے اسلام کا پیغام پہنچایا جا رہا ہے۔اور افریقن احباب جماعت جانی اور مالی قربانیوں میں تن من دھن لگائے ہوئے ہیں۔قریشی محمد افضل صاحب آئیوری کوسٹ میں تین سال سے زائد عرصہ تک مصروف جہادر ہنے کے بعد 11 نومبر 1966ء کو واپس تشریف لائے اور دوبارہ 28 مارچ 1968 ء کور بوہ سے روانہ ہوکر 24 اپریل 1967ء کوآئیوری کوسٹ پہنچ گئے۔ازاں بعد احمد شمشیر سوکیہ صاحب 18 جولائی 1967ء کو ماریشس سے آئیوری کوسٹ بھیجے گئے۔محترم قریشی صاحب نے اس مرتبہ کم و بیش ساڑھے چار سال تک انچارج مشن کے فرائض نہایت کامیابی سے ادا کئے اور مرکزی اور مقامی مبلغین اور مقامی احمدیوں کے تعاون سے احمدیت کی آواز کو ملک کے کونہ کونہ تک پہنچا دیا۔وسیع دورے کئے، تبلیغ کے مختلف ذرائع اختیار کئے اور نئے پمفلٹ شائع کر کے