تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 148
تاریخ احمدیت 148 جلد 21 احمدیت کو دنیا کے کناروں تک پھیلا دیں۔حضرت مصلح موعود کا پیغام نظام الوصیت“ سے متعلق خاکسار مرز امحموداحمد خلیفہ اسیح الثانی 91 مارچ 1961ء میں سیدنا حضرت مصلح موعود نے امراء، پریذیڈنٹوں اور مربیان سلسلہ کو پُر زور تحریک فرمائی کہ وہ غیر موصی احباب کو وصیت کرنے اور موصی احباب کو اپنی قربانیوں میں اور بھی اضافہ کرنے کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔فرمایا: ’اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم برادران جماعت۔نحمده و نصلی علی رسوله الكريم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت وصیت کا نظام جاری فرمایا تھا اور جماعت کے دوستوں کو ہدایت فرمائی تھی کہ وہ اشاعتِ اسلام کے لئے اپنے اور مالوں جائدادوں کو اس کی راہ میں پیش کریں تا کہ انہیں مرنے کے بعد جنتی زندگی حاصل ہو۔اس تحریک میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اب تک ہزاروں لوگ حصہ لے چکے ہیں مگر ابھی ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی پائی جاتی ہے جنہوں نے وصیت نہیں کی اور یہ ایک افسوس ناک امر ہے۔میں اس پیغام کے ذریعے تمام جماعتوں کے امراء اور پریذیڈنٹوں اور مربیان سلسلہ کو خاص طور پر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ غیر موصی احباب کو وصیت کرنے اور موصی احباب کو اپنی قربانیوں میں اور بھی اضافہ کرنے کی طرف بار بار توجہ دلاتے رہیں۔اگر وصیت کرنے والا کم از کم ایک نے شخص سے ہی وصیت کرانے میں کامیاب ہو جائے تو ہمارے بجٹ میں ہزاروں لاکھوں روپے کا اضافہ ہوسکتا ہے اور اگر امراء اور جماعتوں کے پریذیڈنٹ اور سلسلہ کے مربی بھی اس تحریک کی اہمیت کو سمجھیں تو چند دنوں میں ہی سلسلہ کی مالی حالت میں غیر معمولی ترقی ہو سکتی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ جو دوست ابھی موصی نہیں وہ وصیت کرنے اور موصی احباب دوسروں سے زیادہ