تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 96
تاریخ احمدیت 96 جلد 21 میں آپ نے پانچ امور کی طرف توجہ دلائی۔(اول) اپنی زندگیوں کو احمدیت کی تعلیم کے مطابق ڈھالیں ( دوئم ) اشاعت احمدیت کے لئے زیادہ سے زیادہ مالی قربانی سے کام لیں۔( سوئم ) اپنے عمل سے ثابت کر دیں کہ آپ کی زندگیاں احمدیت کے لئے وقف ہیں۔(چهارم) مستورات میں احمدیت کی تعلیم پھیلائیں اور انہیں تلقین کریں کہ وہ احمدیت کے لئے زیادہ سے زیادہ قربانی کے لئے تیار رہیں۔(پنجم) اپنی آئندہ نسل کی ایسے رنگ میں تربیت کریں کہ وہ بھی احمدیت کے خادم اور مجاہدین بن جائیں تا کہ یہ سلسلہ آپ ہی پر ختم نہ ہو جائے بلکہ نسلاً بعد نسل قیامت تک اپنی مقدس روایات کے ذریعہ چلتا چلا جائے۔محترم سید شاہ محمد صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا نے کانفرنس کے ابتداء میں مندرجہ بالا پیغامات پڑھ کرسنائے۔اس دوران احباب پر رقت کی کیفیت طاری تھی۔ان پیغامات کے بعد جناب رئیس التبلیغ صاحب نے افتتاحی خطاب فرمایا جس میں اس امر کا اظہار کیا کہ خواہ ہمارے راستہ میں لاکھوں روکاوٹیں ہوں احمدیت ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔یہ خدا کی ایک اہل تقدیر ہے جسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔آپ نے احباب جماعت کو اس طرف توجہ دلائی کہ وہ اس ہستی کونمونہ بنائیں جسے خدا نے کامل نمونہ قرار دیا ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات۔رئیس التبلیغ کے علاوہ درج ذیل احباب نے اس کانفرنس سے خطاب فرمایا۔(1) جناب حسن احیا بر مادی صاحب (2) مکرم محمد ایوب صاحب (3) مکرم میاں عبدالحی صاحب (4) مکرم بیچی پونتو صاحب (5) مکرم مولوی امام الدین صاحب (6) مکرم مولوی محمد زهدی صاحب (7) مکرم مولوی عبدالواحد صاحب (8) مکرم ملک عزیز احمد صاحب (9) مکرم مولوی ابوبکر ایوب صاحب (10) جناب راؤن ہدایت صاحب۔کانفرنس میں 1400 سے زائد افراد شامل ہوئے۔کانفرنس کے انعقاد سے قبل 17 سے 22 جولائی تک خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہوا اور 22 جولائی کو لجنہ اماءاللہ ، خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور ناصرات الاحمدیہ کے اجلاس ہوئے۔کانفرنس کے تبلیغی جلسہ میں معز ز طبقہ کے غیر از جماعت احباب بھی شامل ہوئے۔اور کانفرنس کے دوران شوریٰ کا اجلاس بھی ہوا۔سالانہ کانفرنس کے دوران مکرم جناب عبدالرحیم صاحب جنرل سیکرٹری جماعت احمد یہ انڈونیشیا