تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 617
تاریخ احمدیت 617 جلد 21 جس پر مالا بار کے ایک موقر اور آزاد خیال روز نامہ دن پر بھا (DINA PRABHA) نے 16 جون 1962 ء کی اشاعت میں حسب ذیل تبصرہ کیا:۔اسلامی اصول کی فلاسفی ایک اسم بامسمی کتاب ہے یعنی اس میں اسلام کے تمام اصولوں پر بہترین رنگ میں روشنی ڈالی گئی ہے یہ کتاب قرآن کریم کے گہرے مطالعہ کا ایک ثمر ہے کیونکہ یہ قابل تعریف رنگ میں لکھی گئی ہے۔ٹھوس علمی مضامین پر مشتمل بیش قیمت کتاب ہے۔مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم احباب کے لئے بھی یہ کتاب ہر رنگ میں مفید ثابت ہو گی۔۔۔۔۔عوام الناس کو اسلام کی تعلیم سے اچھی طرح بہرہ ور ہونے کے لئے یہ پر معارف کتاب بہت ہی ممد و معاون ثابت ہوگی غیر مسلموں کو اسلام اور اسکی سنہری تعلیم کے متعلق بہت زیادہ علم یہ کتاب دیتی ہے۔اس کتاب کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کی تعلیم مختلف مذاہب کے مابین پیدا شدہ منافرت دور کر کے ایک دوسرے مذہب کو قریب لاتی ہے تاکہ اس طرح مذہبی تعصب اور جنون کا خاتمہ ہو جائے۔۔۔۔۔یہ کتاب قرآن کریم کا ایک آئینہ ہے۔۔۔۔۔یہ کتاب قرآن کریم کی عالمگیر حیثیت ، خصوصیت اور اہمیت کی علمبردار ہے جس کے مطالعہ سے اسلام کے متعلق ایک اچھی خاصی واقفیت حاصل ہوتی ہے۔329 پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے متعلق نوائے وقت کی رائے روزنامہ نوائے وقت لاہور نے پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے بارہ میں لکھا۔”میرے خیال میں جو سب نوجوانوں کے لئے قابل تقلید بات ہے۔وہ یہ ہے کہ پروفیسر سلام کی زندگی بے انتہا سادہ و پاکیزہ ہے اور وہ ایک دیندار آدمی ہیں۔اتنی طویل مدت سے یورپ میں رہتے ہوئے انہوں نے لہو ولعب کی طرف کبھی نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا با قاعدہ پانچ وقت کی نماز اور بعض اوقات تہجد اس نوجوان کے روز مرہ مشاغل کا حصہ ہیں ادھر اُدھر وقت ضائع کرنا ان کے نزدیک سب سے بڑا گناہ ہے۔66