تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 616 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 616

تاریخ احمدیت 616 جلد 21 ایک تربیتی تقریر کے ذریعہ ان کی ذمہ داریاں یاد دلائیں۔9 جون کو آپ حیدر آباد واپس تشریف لے گئے 13 جون کو خدام کے ایک تقریری مقابلہ میں خطاب فرمایا۔15 جون کو خطبہ جمعہ دیا۔17 جون کو لجنہ اماء اللہ حیدر آباد کے ایک کثیر اجتماع کو خطاب کیا۔22 جون کو حیدر آباد میں جمعہ پڑھایا۔24 جون کو حیدر آباد کے خدام سے خطاب فرمایا۔26 - 2- حیدر آباد سے واپسی پر محترم صاحبزادہ صاحب نے 29 جون کو شموگہ میں جمعہ پڑھایا نماز جمعہ میں شموگہ کے علاوہ بنگلور۔سرب۔ساگر اور مدراس کے احباب نے بھی شرکت کی۔اسی روز نماز مغرب کے بعد آپنے احباب سے تربیتی خطاب فرمایا 30 جون کو ایک پارٹی میں غیر از جماعت افراد کے سوالوں کے جواب دیئے۔یکم جولائی کو آپ نے سیرت پیشوایان مذاھب کے جلسے میں تقریر کی۔20 13-3 ستمبر 1962ء کو محترم صاحبزادہ صاحب کلکتہ تشریف لے گئے۔یہاں 16 ستمبر کو آپ نے بیت احمد یہ کا سنگ بنیا درکھا۔سنگ بنیاد سے قبل آپ کی صدارت میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا جس میں مکرم عبد القادر صاحب برما، مولانا بشیر احمد صاحب فاضل مبلغ کلکته ، مولوی محمد سلیم فاضل صاحب نے تقاریر کیں۔آخر میں صاحبزادہ صاحب نے صدارتی خطاب میں بیت الذکر کی تعمیر کی اہمیت پر روشنی ڈالی جلسہ کے بعد 5 بنیادی اینٹیں اپنے ہاتھ سے رکھیں۔4- 18۔نومبر 1962ء کو آپ دوبارہ حیدر آباد تشریف لے گئے۔دوسرے دن انگریزی اخبار ’BLAZE‘ کے ایڈیٹر اور’CURRENT WEKLY“ کے نمائندہ نے آپ سے ڈیڑھ گھنٹہ تک انٹرویو لیا جس میں ہندوستان پر چین کے تسلط اور مسئلہ جہاد کے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔327- 20 نومبر کو آپ یاد گیر تشریف لے گئے اور بعد از نماز عصر آپ نے اپنے خطاب میں احباب جماعت کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔یکم دسمبر کو حیدر آباد کے محلہ مراد نگ میں آپ کی زیر صدارت جلسہ ہوا جس میں مکرم چوہدری مبارک علی صاحب مبلغ آندھرا پردیش ، مکرم مولوی محمد کریم الدین صاحب، مکرم میر احمد صادق صاحب مکرم مولوی محمد عمر صاحب مبلغ حیدر آباد، مکرم محمد کریم اللہ صاحب ایڈیٹر آزادنو جوان کے علاوہ صاحبزادہ صاحب نے بھی خطاب فرمایا جس میں جماعت احمدیہ کے عقائد پر روشنی ڈالی۔اس جلسہ میں غیر از جماعت احباب بھی شامل ہوئے۔”اسلامی اصول کی فلاسفی کے ملیالم ترجمہ پر مالابار کے مشہور اخبار ”دن پر بھا“ کا تبصرہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی تصنیف ”اسلامی اصول کی فلاسفی کا ملیالم زبان میں ترجمہ کیا گیا