تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 602
تاریخ احمدیت 602 جلد 21 کو 1943 و 1944ء میں مہتم نشر و اشاعت کی حیثیت سے علمی خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔تفسیر کبیر و سورہ یونس تا سورہ کہف کی عمدہ اور بروقت طباعت کے انتظام میں بھی آپ کا نمایاں حصہ تھا۔فلسفہ اور سائنسی علوم سے خاصی دلچسپی اور شغف تھا۔آپ کے قلم سے متعدد مضامین الفضل میں چھپ چکے ہیں۔تالیفات۔مذہب اور سائنس۔اسلامک کلچر (انگریزی)۔لائحہ عمل سیکرٹریان نشر واشاعت - تفسیر القرآن کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کے دعوی کی حقیقت تفصیلی حالات اخبار الفضل 16، 19، 20 جولائی 1963ء میں ریکارڈ ہو چکے ہیں۔200 10 - چوہدری عطا محمد صاحب ریٹائر ڈ تحصیلدار (وفات 6 نومبر 1962ء) سلسلہ کے ایک مخلص بزرگ تھے۔قادیان میں عرصہ تک صدر انجمن احمدیہ کے انتظامی کمیشن کے کارکن رہے۔1935ء میں آپ کو حضرت مصلح موعود نے چندوں میں اضافہ اور نظام بیت المال بہتر بنانے کے لئے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت فرمائی آپ نے چار ماہ تک مختلف مقامات کا دورہ کر کے اپنی تجاویز رپورٹ کی شکل میں مرتب کر کے پیش کیں جو بہت مفید ثابت ہوئیں۔حضور نے آپ کو مجلس مشاورت کا مستقل نمائندہ مقررفرمایا ہوا تھا۔جماعت احمدیہ کے نئے مرکز ربوہ کی آبادی اور تعمیر میں آپ نے شاندار خدمات انجام دیں۔آپ 1949 ء سے 1952 ء تک سیکرٹری تعمیر ربوہ کے عہدہ پر ممتاز رہے۔آپ کے دور میں نہ صرف دفاتر اور رہائش کے لئے تین سو سے زائد عارضی عمارتیں بنیں بلکہ بیت مبارک، قصر خلافت دارالضیافت اور تعلیم الاسلام ہائی سکول مستقل اور وسیع عمارات بھی تیار ہو ئیں۔اسی طرح دفاتر صدر انجمن احمد یہ اور جامعہ نصرت کا خاصا حصہ تعمیر ہوار بوہ کے لئے سیمنٹ کی ایجنسی کا انتظام ہوا۔پہلی بار سینکڑوں درخت اور پھلدار پودے اس وادی بے آب و گیاہ میں لگائے گئے جس سے ربوہ کی نئی بستی جہاں ہر طرف کلر ہی کلر نظر آتا تھا ایک دلکش اور خوبصورت منظر پیش کرنے لگی۔آپ کے بڑے فرزند چوہدری عبد اللطیف صاحب دس سال سے نہایت خوش اسلوبی اور کامیابی سے جرمنی میں فریضہ تبلیغ بجالا ر ہے تھے اور ان کی واپسی بہت جلد متوقع تھی اور آپ نہایت بے تابی سے اپنے مجاہد بیٹے کی انتظار میں تھے کہ اچانک پیغام اجل آ گیا۔آپ کے مفصل حالات چودھری عبداللطیف صاحب کے قلم سے الفضل 14 اپریل 1963ء میں شائع شدہ ہیں۔