تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 588 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 588

تاریخ احمدیت 588 جلد 21 وائسرائے ہند یا دیگر اعلیٰ افسروں کو بھیجتے وہ خلیفہ صاحب ٹائپ کرتے تھے۔راجہ صاحب کے مخالفین نے سینئر مہارانی کی طرف سے آپ کو ہزاروں روپے کا لالچ دیا بلکہ ریاست سے باہر ایک بھاری جائیداد بھی دینے کی پیشکش کی کہ وہ ان خطوط کی نقول انہیں دے دیں مگر خلیفہ صاحب نے اعلیٰ کیریکٹر اور استغناء کا ثبوت دیتے ہوئے صاف انکار کر دیا۔آپ ریاست میں بڑے اہم عہدوں پر فائز ہوئے افسرانِ بالا کا اعتماد مسلسل حاصل رہا جہاں جس محکمہ میں رہے مسلمانوں اور اسلام اور جماعت کے مفادات کے لئے شمشیر برہنہ بنے رہے خصوصاً تحریک آزادی کشمیر کے دوران جس کے باعث مہاراجہ ہری سنگھ صاحب ان سے سخت ناراض ہو گئے اور کچھ عرصہ کے لئے آپ کو ملازمت سے بھی الگ کر دیا۔لیکن آپ کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی کچھ عرصہ کے بعد آپ کو اسٹنٹ ڈائریکٹ فوڈ کنٹرول (صوبہ کشمیر ) مقرر کر دیا گیا۔چند سالوں کے بعد اسسٹنٹ ریونیو سیکرٹری اور اسسٹنٹ ہوم سیکرٹری کی آسامیاں خالی ہو ئیں۔اس زمانہ میں ریاست کار یو نیومنسٹر انگریز تھا۔خلیفہ صاحب نے اسٹنٹ ریونیو سیکرٹری کی آسامی کے لئے سعی کی چنانچہ ریاست کی کابینہ نے سفارش کر کے کاغذات مہاراجہ صاحب کی منظوری کے لئے بھیج دیئے کافی عرصہ تک منظوری نہ آئی آپ کے والد حضرت خلیفہ نورالدین صاحب دعا کر رہے تھے انہوں نے رویا میں دیکھا کہ خلیفہ عبدالرحیم صاحب والے کاغذ پر ایک لمبی لکیر کے بعد مہاراجہ صاحب کے دستخط ثبت ہیں چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ کچھ وقفہ کے بعد یہ کام ہوگا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔مہاراجہ صاحب نے خلیفہ صاحب کو اسٹنٹ سیکرٹری بنانے کی منظوری تو دے دی مگر ساتھ ہی کسی وہم کے باعث یہ خفیہ ہدایت کی کہ انہیں انگریز وزیر کے ساتھ نہ لگایا جائے چنانچہ آپ کو اسٹنٹ ہوم سیکرٹری لگایا گیا مگر آپ کا کام ایسا اعلیٰ تھا کہ چند سالوں کے بعد ترقی کر کے ہوم سیکرٹری بن گئے۔جناب مولوی عبدالواحد صاحب سابق ایڈیٹر اخبار ” اصلاح سرینگر تحریر فرماتے ہیں:۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جب مجھے اخبار ” اصلاح“ کا چارج لینے کے لئے کشمیر روانہ کیا تو ہدایات دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ خلیفہ عبدالرحیم صاحب ایک پرانے اور مخلص احمدی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ان سے تعلقات موڈت قائم کرنا اور بڑھانا آپ کے لئے مفید ہوگا۔میں نے حضور کے ارشاد کی تعمیل میں محترم خلیفہ صاحب سے تعلقات اخوت استوار کئے اور آخر یہ صورت حال ہوئی کہ اگر سرینگر میں ان کے قیام کے ایام میں میں چند روز ان کے مکان پر حاضر نہ ہوتا تو وہ خود میرے پاس تشریف لے آتے ہمارا کام زیادہ تر سیاسیات کشمیر سے متعلق تھا۔بعض اوقات ہم