تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 585
تاریخ احمدیت 585 جلد 21 یہیں وفات پائی۔آپ بہشتی مقبرہ کے قطعہ رفقاء مسیح موعود میں مدفون ہیں۔مرحوم بہت مستعد ، نیک اور سادہ اور عبادت گزار بزرگ تھے قادیان میں کافی عرصہ تک بعہدہ جنرل پریذیڈنٹ خدمات بجالاتے رہے۔اولاد۔عبدالقادر صاحب سول سرجن اور چار بہنیں۔220 حضرت قاری صاحب معاون ناظر امور عامہ قادیان کے عہدہ پر بھی ممتاز رہے۔حضرت سید فقیر محمد صاحب کا بلی (افغان) وفات 6 نومبر 1962ء-280 آپ حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید کے معتقدین میں سے تھے۔جو آپ کے ایماء پر 98-1897ء میں مستقل طور پر ہجرت کر کے قادیان تشریف لے آئے۔تقسیم ملک کے موقع پر آپ کو پاکستان آنا پڑا۔وفات سے قریباً ایک ماہ قبل آپ یہ عہد کر کے ربوہ سے قادیان گئے کہ وہ اس پاک بستی سے واپس نہیں آئیں گے۔چنانچہ آپ نے وہاں پہنچتے ہی گویا اعلان کر دیا کہ میں مرنے کے لئے قادیان آیا ہوں اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہونا چاہتا ہوں۔حضرت امیر صاحب مقامی مولانا عبدالرحمن صاحب جٹ کے حکم پر چوہدری فیض احمد صاحب گجراتی نے حضرت اماں جان کے مکان مبارک کے ایک مقدس کمرہ میں ان کے قیام کا انتظام کر دیا۔آپ کی صحت اس وقت اچھی تھی اور چلتے پھرتے تھے مگر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے عزم کے پورا کرنے کے لئے بہت دعائیں کیں۔آپ بہشتی مقبرہ ربوہ کے دفتر سے وصیت کا سرٹیفیکیٹ اور اپنے حصہ آمد کا حساب بھی لے گئے تھے۔علاوہ ازیں آپ دفتر بہشتی مقبرہ ربوہ کے امپرسٹ میں دو سو روپے کی رقم اس غرض کے لئے جمع کرا آئے تھے کہ اگر وہ ( قادیان کی بجائے ) ربوہ میں فوت ہوں تو ان کی نعش کو قادیان میں پہنچانے کا انتظام کیا جائے اور یہ تحریر بھی آپ کے ساتھ تھی۔بظا ہر آثار یہی تھے کہ آپ کچھ سال اور جئیں گے لیکن تین ہفتوں کے بعد آپ پر فالج کا شدید حملہ ہواغشی کی کیفیت طاری ہوگئی اور پانچ چھ روز میں اللہ تعالیٰ کی آغوش رحمت میں پہنچ گئے۔آپ کے فرزند اور سلسلہ احمدیہ کے مخلص بزرگ الحاج خلیل الرحمن صاحب مولوی فاضل کا تحریری بیان ہے کہ :۔مرحوم کے بڑے بھائی سید آدم خان مرحوم خلافت ثانیہ کے انتخاب میں موجود تھے۔