تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 575
تاریخ احمدیت 575 جلد 21 دوست ست نے بعد جمعہ عرض کیا ایک شخص بیعت کے لئے حاضر ہے فرمایا عصر کے بعد۔چنانچہ عصر کے بعد جب حضور نے اپنے دست مبارک میں میرا ہاتھ لے کر الفاظ بیعت پڑھوائے تو اس کلمہ شہادت کے پڑھنے سے عجیب کیفیت پیدا ہوئی اور یوں محسوس ہوا کہ گویا پہلی بار یہ کلمہ صحیح معنوں میں پڑھ رہا ہوں اور استغفار کے الفاظ حضور کے دل سے نکلتے محسوس ہوتے تھے اور اس وقت بے اختیار میری چیخ نکل گئی بیعت کے وقت کا سرور اور حلاوت اس وقت تک دل کی گہرائیوں میں موجود ہے۔بعد بیعت میں نے ایک روپیہ نذرانہ پیش کر کے دعا کے لئے عرض کیا۔حضور نے نہایت شفقت اور پیار سے فرمایا آپ کے لئے ضرور دعا کی جائے گی۔بیعت کے بعد آپ آٹھ دن تک قادیان میں ٹھرے بعد ازاں گاؤں واپس آئے تو آپ کے گھر والے آپکی گریہ وزاری اور قادیان سے والہانہ الفت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔آپ کے والد ماجد چونکہ حضور کی پاکیزہ سیرت کے عینی شاہد تھے اس لئے انہوں نے نہ صرف مخالفت نہیں کی بلکہ قریباً ڈیڑھ سال بعد حضرت مسیح موعود کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔200 شیخ صاحب کو داخل سلسلہ ہونے کے بعد حضرت مسیح موعود اور قادیان سے خاص الفت پیدا ہوگئی۔آپ ہر جمعہ قادیان میں پڑھتے اور قادیان آنے کی کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے۔صبح دکان پر اپنے بھائی کو بٹھا کر چلے جاتے اور شام کو نماز مغرب ادا کر کے گھر پہنچتے اور کبھی مسلسل کئی روز قادیان میں ہی قیام رکھتے۔E آپ کا بیان ہے کہ وہ قحط سالی کا زمانہ تھا۔حضرت مسیح موعودؓ فرمایا کرتے تھے کہ قحط اور وبا اکٹھے ہو رہے ہیں پھر بھی لوگ تو یہ نہیں کرتے۔حضور نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو حکم دیا کہ غلہ جس قدر ہو سکے مہیا کیا جاوے۔حضور نے گھر کا سب زیور فروخت کر دیا اور سات سو روپیہ گندم کی خرید کے لئے عطا فرمایا۔حضرت مولوی صاحب نے میاں نجم الدین صاحب مرحوم کو غل والا بھیجا مرزا محمد اسماعیل صاحب بھی ان کے ہمراہ تھے جنہوں نے لنگر خانہ کے لئے 30 بوری گندم آپ سے خرید کی۔ان دنوں بریکا نیر کے لوگ پنجاب میں آگئے تھے اور روٹی روٹی کی آواز ہر طرف سے آتی تھی۔حضور نے حکم دیا کہ لنگر میں ہر وقت روٹی تیار رہے اور کوئی بھی خالی نہ جاوے چند روز میں غلہ ختم ہو گیا پھر حضور نے تقریر فرمائی جس کے الفاظ یہ تھے کہ یہ وقتی بات ہے ہمیشہ نہ ایسی قربانی کرنی پڑتی ہے نہ ایسا اجر ملا کرتا ہے۔یہ مومنوں کے لئے خاص دن ہیں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے اللہ تعالیٰ دوستوں کو توفیق دے اس تقریر پر کچھ رو پیدا کٹھا ہو گیا اور کچھ باہر سے آیا اور غلہ خرید کیا گیا۔غرض اسی طرح سلسلہ قحط کے دنوں میں جاری رہا اور حضور فرمایا کرتے تھے کہ میں نے فلاں اخبار میں دیکھا کہ اتنے بچے بھوک سے مر گئے اور اتنے آدمی مر گئے غلہ ملتا نہیں یہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب ہے کہ غلہ نہیں ملتا اور بار بارذ کر کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور سخت گھبراہٹ سے میاں