تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 564 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 564

تاریخ احمدیت 564 جلد 21 اڑھائی ارب کے قریب آبادی ہے اور ان سب کو خدائے واحد کا پیغام پہنچانا اور انہیں محمد رسول اللہ ہے کے حلقہ بگوشوں میں شامل کرنا جماعت احمدیہ کا فرض ہے۔پس ایک بہت بڑا کام ہے جو ہمارے سامنے ہے اور بڑا بھاری بوجھ ہے جو ہمارے کمزور کندھوں پر ڈالا گیا ہے۔اتنے اہم کام میں اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائید اور نصرت کے سوا ہماری کامیابی کی کوئی صورت نہیں۔ہم اس کے عاجز اور حقیر بندے ہیں اور ہمارا کوئی کام اس کے فضل کے بغیر نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر آن اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں اور دعائیں کرتے رہیں کہ وہ ہمارے راستہ سے ہر قسم کی مشکلات کو دور کرے اور ہمیں کامیابی کی منزل تک پہنچا دے۔بے شک ہم اس وقت دنیا کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کی حیثیت بھی نہیں رکھتے لیکن اگر ہم صبر اور ہمت اور استقلال سے کام لیں گے اور دعاؤں میں لگے رہیں گے اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے تو یقینا اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں ایک تغیر پیدا کر دے گا اور وہی لوگ جو اس وقت ہمیں اپنے مخالف دکھائی دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو صداقت کی طرف کھینچ لائے گا۔تمہیں یادرکھنا چاہئے کہ اس وقت اسلام کا جھنڈا خدا تعالیٰ نے تمہارے ہاتھ میں دیا ہے اور تم پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد کی ہے۔پس جس طرح صحابہ نے اپنی موت تک اسلام کے جھنڈے کو سرنگوں نہیں ہونے دیا اسی طرح تمہارا بھی فرض ہے کہ تم اسلام کا جھنڈا ہمیشہ بلند رکھو اور نہ صرف اپنے اخلاق اور عادات میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کرو بلکہ آئندہ نسلوں کو بھی اسلامی رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرو۔اگر اس زمانہ میں بھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قرب کا زمانہ ہے کوئی شخص احمدی کہلاتے ہوئے اس تعلیم پر نہیں چلتا جو اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کیا عذر پیش کر سکے گا ؟ بندوں کے سامنے تو تم ہزار عذر کر سکتے ہو مگر خدا تعالیٰ کے سامنے جب اولین و آخرین جمع ہوں گے تم اس بات کا کیا جواب دو گے کہ تم نے کیوں خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل نہ کیا اور کیوں اپنی آئندہ نسلوں کی اصلاح کی کوشش نہ کی؟ اور اگر خدا کے سامنے پیش کرنے کے لئے تمہارے پاس کوئی عذر نہیں تو تم کیوں اپنے دلوں کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کرتے جس کے بغیر کوئی کامیابی اور فتح حاصل نہیں ہوسکتی۔پس میں تمام دوستوں سے کہتا ہوں کہ اپنی