تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 563 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 563

تاریخ احمدیت 563 جلد 21 اختتامی پیغام اعوذبالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم برادران جماعت احمدیہ نحمده ونصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هــوالـنـاصـر السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جب 1908 میں انتقال ہوا تو اس وقت میری عمر صرف ہیں سال کے قریب تھی۔اس وقت میں نے دیکھا کہ جماعت کے بعض دوستوں کے قدم لڑکھڑا گئے اور ان کی زبانوں سے اس قسم کے الفاظ نکلے کہ ابھی تو بعض پیشگوئیاں پوری ہونے والی تھیں مگر آپ کی وفات ہوگئی ہے۔اب ہمارے سلسلہ کا کیا بنے گا؟ جب میں نے یہ الفاظ سنے تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ایک جوش پیدا کیا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نعش کے سرہانے کھڑا ہوگیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے اس کی قسم کھا کر یہ عہد کیا کہ اے میرے رب ! اگر ساری جماعت بھی اس ابتلاء کی وجہ سے کسی فتنہ میں پڑ جائے تب بھی میں اکیلا اس پیغام کو جو تو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ بھیجا ہے دنیا کے کناروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا اور اس وقت تک چین نہیں لونگا جب تک کہ میں ساری دنیا تک احمدیت کی آواز نہ پہنچا دوں۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے محض اپنے فضل سے مجھے اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور میں نے آپ کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے اپنی تمام زندگی وقف کر دی جس کا نتیجہ آج ہر شخص دیکھ رہا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک میں ہمارے مشن قائم ہو چکے ہیں اور ہزار ہا لوگ جو اس سے پہلے شرک میں مبتلا تھے یا عیسائیت کا شکار ہو چکے تھے محمد رسول اللہ علیہ پر درود اور سلام بھیجنے لگ گئے ہیں۔لیکن ان تمام نتائج کے با وجود یہ حقیقت ہمیں بھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ دنیا کی اس وقت