تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 560 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 560

تاریخ احمدیت 560 جلد 21 پڑتا ہے اور وہ دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جاتا ہے۔جب لوگ اسے دیکھتے ہیں تو وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ بظاہر دیکھنے میں تو یہ شخص بھی ہماری طرح ہے لیکن اس کے اخلاق ہم سے اعلیٰ ہیں۔اس کی عادات ہم سے بہتر ہیں۔اس کے اندر نماز اور روزہ اور دعاؤں اور صدقات کا زیادہ شغف پایا جاتا ہے اور ہر قسم کے رزائل سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔اگر یہ شخص اپنے اندر ایک نیک اور پاک تغیر پیدا کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے تو ہم کیوں کامیاب نہیں ہو سکتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بھی احمدیت کو قبول کر لیتے ہیں۔کیونکہ فطری طور پر ہر انسان پاکیزگی کا خواہشمند ہے۔صرف بیرونی علائق اور روکیں ہی ہیں جو اسے خدا تعالیٰ سے دور رکھتی ہیں۔لیکن جب کوئی نیک نمونہ اس کے سامنے آتا ہے تو اس کی خوابیدہ فطرت بیدار ہو جاتی ہے اور وہ بھی دنیوی علائق کو توڑ کر خدا تعالیٰ کے آستانہ کی طرف جھک جاتا اور اس سے سچا تعلق پیدا کر لیتا ہے۔پس احمدیت پھیلانے کے لئے اپنا نیک نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کرو اور ان کی ہدایت سے کبھی مایوس نہ ہو تمام دل اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ جب چاہے تغیر پیدا کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دل کھول دیئے صلى الله اور وہ جوق در جوق اسلام میں شامل ہونے لگ گئے یہاں تک کہ ہند بنت عتبہ جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ کا کلیجہ تک نکلوایا تھا وہ بھی رسول کریم ﷺ پر ایمان لے آئی اور جب رسول کریم ﷺ نے عورتوں سے یہ اقرار لیا کہ کہو ہم شرک نہیں کریں گی تو ہند جو ایک دلیر عورت تھی فوراً بول اٹھی کہ یا رسول اللہ ! کیا اب بھی ہم شرک کریں گی آپ اکیلے اور بے یار و مددگار تھے کوئی جماعت آپ کے ساتھ نہ تھی کوئی ہتھیار آپ کے پاس نہ تھے اور دوسری طرف سارا مکہ تھا اور بڑے بڑے سردار آپ کے مقابلہ میں تھے مگر آپ کا خدا جیتا اور ہمارے بت ہار گئے۔کیا اتنا بڑ انشان دیکھنے کے بعد بھی ہم بت پرستی کر سکتی ہیں۔؟ اب دیکھو ہند بنت عتبہ کتنی شدید دشمن تھی مگر پھر کس طرح ایک دن بچے دل سے رسول کریم ہے پر ایمان لے آئی۔جب حنین کی جنگ ہوئی تو مکہ کے ہزاروں نو مسلم بھی اس جنگ میں شریک ہو گئے۔مگر چونکہ ایمان ابھی ان کے دلوں میں راسخ نہ تھا اس لئے جب دشمن نے تیروں کی بوچھاڑ کی تو سب سے پہلے مکہ کے نو مسلم میدان جنگ سے بھاگے اور ان کے بھاگنے کی وجہ سے صحابہ کی سواریوں کے قدم بھی اکھڑ گئے اور انہوں نے بھی میدان جنگ سے بھاگنا شروع کر دیا جب صحابہ نے یہ حالت دیکھی تو انہوں نے بڑی سختی سے اپنی سواریوں کو روکنا شروع کیا مگر وہ اتنی خوف زدہ تھیں کہ ذرا باگ ڈھیلی ہوتی تو وہ پھر پیچھے کو دوڑ پڑتیں۔