تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 528
تاریخ احمدیت 528 جلد 21 دوسرے رفقاء کے دستخط ہو جائیں اور پھر ان کی فوٹوسٹیٹ کا پیاں تیار کی جائیں۔5:- مذکورہ بالا تین خلفاء ، اصحاب اور اراکین، اہل بیت اور جید مبلغوں کی تصانیف مکتوبات و ملفوظات کے سلسلہ میں بھری جائیں۔یعنی قلمی نسخے اور کتابوں کی پہلی اشاعتیں جمع کی جائیں اور ان پر تصدیقی دستخط ہوں۔6:- احمد یہ میوزیم میں تبلیغی چارٹ تبلیغی کتب اور سب سے بڑھ کر قرآن حکیم کی تفسیر میں اور ترجمے رکھے جائیں۔نیز احمد یہ البم۔7- زندہ صحابہ کا کلام ٹیپ ریکارڈ کیا جائے اور سب سے بڑھ کر پیارے امام کے خطبات و پیغامات ان کے فوٹو بھی رکھے جائیں۔8:- اور پہلوؤں سے میوزیم کو مکمل کیا جائے۔مثلا فلم بندریل بھی جمع کئے جائیں۔اگر آپ اس تحریک کو پسند فرما ئیں تو پیارے امام کے سامنے پیش کر دیں اور آقا کی منظوری کے بعد اس مجوزہ احمدیہ میوزیم کی تنظیم کا کام آپ کی نگرانی میں شروع کر دیا جائے۔اللہ تعالیٰ برکت دے مرکز میں تاریخی میوزیم کمیٹی کا قیام نگران بورڈ کی طرف سے اس مفید اسکیم پر عملدرآمد کے لئے اکتوبر 1962ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تبرکات کے ریکار ڈ اور ان کی حفاظت کی لئے جماعتی تاریخی میوزیم کمیٹی کا قیام عمل میں آیا نیز فیصلہ کیا گیا کہ جن دوستوں کے پاس حضرت اقدس علیہ السلام کا کوئی تبرک از قسم پارچات یا دستاویزات وغیرہ ہو وہ اس کی تفصیل کمیٹی کو بھجوائیں تا کہ بعد تصدیق اسے ریکارڈ کیا جاسکے۔وو جماعتی تاریخی میوزیم کمیٹی کی سفارش پر صدر انجمن احمدیہ نے تبرکات کی تصدیق کے لئے حسب ذیل ممبران پر مشتمل کمیٹی مقرر کی 1۔مولانا جلال الدین صاحب شمس ( چیئر مین ) 2۔صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب۔کرنل عطاء اللہ خان صاحب۔4۔ملک سیف الرحمن صاحب۔(سیکرٹری) اس کمیٹی کا نام ” تصدیقی کمیٹی برائے قیام جماعتی تاریخی میوزیم تجویز ہوا۔مولا نا ملک سیف الرحمن صاحب نے الفضل 14 اکتوبر 1962ء میں ان ہر دو کمیٹیوں کی اطلاع