تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 527
تاریخ احمدیت 527 169۔جلد 21 ہوں جن کے نیک کاموں پر آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام محبت کیساتھ فخر کر سکیں۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے سکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بہت قیمتی نصائح فرمائیں اور خاص طور پر احمدیت کا نمونہ بنے کی پر زور تحریک کی چنانچہ فرمایا:- ” میری دعا ہے اور تمنا ہے کہ ٹیچرس اور کیا طالبات سب کی سب نیک نمونہ احمدیت کا بہنیں۔۔۔اپنا مقام اپنی پوزیشن اپنے فرائض کو پہچانیں اور ہر قدم پر یا درکھیں ایسی بنیں کہ ایک نمایاں نورایمان آپ کی پیشانیوں پر چمکے اور صدق وصفا کی روشنی آپ کی آنکھوں سے جھلکے۔خلق احسن کی ضیاء آپ کی ہر حرکت سے ہرادا، ہر فعل میں نمایاں نظر آئے۔آپ کے منہ سے وقت کلام نیکی ، پاکیزگی، اور محبت کے پھول جھڑیں۔بُوئے اخلاص آپ کے جسموں سے پھوٹ پھوٹ کر نکلے اور ایک عالم کو مہکا دے۔“ پس تقوی کو شعار بناؤ، نیکی کے حصول کے لئے کوشاں رہو، بہادر بنو، دینی کیریکٹر اتنا قوی بناؤ کہ دنیا داری کی تڑک بھڑک تم پر کوئی اثر نہ ڈال سکے۔دوسرے لوگ تمہارے پیچھے چلیں تمہاری ریس کرنا فخر جانیں تم ان کے لئے نمونہ بنو۔ان کو اپنے لئے نمونہ نہ بناؤ صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی کا تاریخی مکتوب جناب سید اختر اور نیوی صاحب ایم اے (صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی) نے حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب (صدر نگران بورڈ ) کی خدمت میں لکھا کہ :- 1:۔ہمیں ایک احمدیہ میوزیم قائم کرنا چاہیئے۔مرکزی طور پر ربوہ اور قادیان میں اور ان کے علاوہ ایک برطانیہ میں، ایک امریکہ میں ایک افریقہ میں اور ایک انڈونیشیا میں۔2:۔سب سے پہلے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصانیف کے قلمی نسخے ان کے خطوط اور دوسرے ملفوظات فورا اکٹھا کرنا چاہیئے اور ان کے فوٹوسٹیٹ دوسرے مراکز میں روانہ کرنا چاہیئے۔مجھے معلوم نہیں کہ ان عظیم کتابوں کے قلمی نسخے موجود ہیں یا نہیں ؟ حضور کے مسودات تو ہوں گے۔احمد یہ میوزیم میں موسم کے بداثرات سے بچانے والا کمرہ ہونا چاہیئے۔3:- حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اور یادگاریں مثلاً کپڑے، قلم، دوات، میز، بستر ا، جوتا وغیرہ محقق طور پر جمع کرنا چاہیئے۔:۔حضور کی تصانیف کے پہلے ایڈ لائن جمع کئے جائیں اور ان پر حضرت خلیقہ امنبع الثانی اور