تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 511 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 511

تاریخ احمدیت وو 511 جلد 21 وہ ضابطے کی خوبصورت پیچیدگیوں میں اس بری طرح پھنس جاتے تھے کہ وہ اس سے رہائی کیلئے کئی کئی گھنٹے صرف کیا کرتے تھے۔لیکن چوہدری ظفر اللہ کے ساتھ ایسا معاملہ کبھی پیش نہیں آیا۔ایجنڈے کا تمام کام ختم کرنے کے بعد یہ دستور ہے کہ نمائندگان اپنے صدر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں لیکن جمعرات کی رات کو یہ رسم معمول کی رسم سے بہت بڑھ کر تھی۔چوہدری ظفر اللہ کی جو غیر معمولی تعریف کی گئی وہ اخلاص اور احترام پر مبنی تھی اور یہ تقریب سیلون کے مسٹر ملالا سیکرا کی تقریر سے نہایت خوشگوار انداز میں شروع ہوئی۔یادر ہے کہ یہ صاحب چودھری ظفر اللہ کے مقابل پر گزشتہ ستمبر میں صدارت کا الیکشن ہار چکے ہیں وہ ایشیا کے غیر جانبدار ملکوں انڈونیشیاء بر ماوغیرہ کی طرف سے بول رہے تھے۔لیکن ان کی فہرست میں بھارت کا نام شامل نہیں تھا۔اس کے بعد دیگر ممالک کے نمائندگان کی تقاریر ہوئیں۔بہت غیر معمولی خراج تحسین دو مشرقی یورپی ممالک کی طرف سے تھا اول بلغاریہ جو تمام گروپ کی طرف سے بولا۔اس نے چودھری ظفر اللہ کی تعریف کرتے ہوئے انکی بیک وقت دوخو بیوں کی تعریف کی کہ ایک طرف تو انہوں نے ڈسپلن برقرار رکھا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ ہر کسی کو رائے کے اظہار کی پوری آزادی اور مہلت بھی دی روسی نمائندہ بھی تقریر کرنے اٹھا حالانکہ اس کے گروپ کی طرف سے بلغاریہ تقریر کر چکا تھا۔اس نے چودھری ظفر اللہ خاں کو بھر پور خراج تحسین پیش کیا۔آخر میں چودھری ظفر اللہ نے مختصر خطاب کیا جس نے ہر شخص کو گہرا متاثر کیا۔اس تقریر میں انہوں نے پسماندہ ممالک اور ان کی مشکلات کا ذکر کیا۔اس کے بعد انہوں نے سیکریٹریٹ کا شکر یہ ادا کیا۔ان کا خطاب ان مخلص کارکنوں کو دیے جانے والے رسمی شکریہ سے زیادہ متاثر کن تھا۔یقیناً یہ چودھری ظفر اللہ خاں کا بہترین وقت تھا۔لیکن جو بات وہ نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ سیکریٹریٹ کے لوگ ان آخری چند ایام میں مجھے بار بار کہتے رہے اور جوں جوں آخری وقت آتا گیا ان کے اصرار میں شدت بڑھتی گئی ان کا کہنا تھا کہ ان کو اسمبلی کا تاحیات صدر بنادینا چاہیے۔وسیع پیمانہ پر لڑ یچر کی اشاعت 66 مولوی محمد صاحب امیر جماعت احمدیہ مشرقی پاکستان کا مرکز میں مراسلہ موصول ہوا کہ جماعت کے خلاف دوبارہ فتنہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔اس فتنہ کے سد باب کے لئے نظارت اصلاح وارشاد نے ایک مفصل سکیم تیار کی۔نیز مشرقی اور مغربی پاکستان میں وسیع پیمانے پر موثر لٹریچر کی اشاعت کی۔چنانچہ نظارت کی مطبوعہ رپورٹ سے حسب ذیل تفصیلات کا پتہ چلتا ہے:۔