تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 500 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 500

تاریخ احمدیت 500 جلد 21 حضرات کرام و معز ز نمائندگان اسمبلی! پاکستان کے لئے یہ امر موجب امتنان و تفاخر ہے کہ اقوام عالم کی جلیل القدر اسمبلی نے پاکستان کے ممتاز ومخلص باشندوں میں سے ایک ممتاز ترین شہری کو جنرل اسمبلی کا صدر منتخب کر کے ایک خصوصی اعزاز بخشا ہے۔مجھے یقین واثق ہے کہ روائتی غیر جانبداری مدبرانہ صلاحیت اور غیر معمولی احساس فرض کے اوصاف (جن کی وجہ سے آپ پہلے ہی بہت نیک شہرت کے مالک ہیں ) اپنے اہم فرائض کی ادائیگی میں آپ کے لئے مشعل راہ ثابت ہو نگے۔ایجنڈا کے مراحل کی خوش اسلوبی سے تکمیل 139- جنرل اسمبلی کے ابتدائی دو اجلاسوں میں ایجنڈا کی ترتیب اور تقسیم کی کارروائی کے اہم امور تھے جو خلاف توقع نہایت پرسکون اور پُر وقار ماحول میں مکمل ہوئے حالانکہ اس مرحلہ پر ہنگامہ آرائی کے سے منظر دیکھنے میں آتے تھے۔چنانچہ مشہور عالم ہفت روزہ میگزین ٹائم (TIME) نے اپنی 28 ستمبر 1962 ء کی اشاعت میں لکھا:۔(ترجمہ) عالمی سیاسی مدبرین اس امر سے خائف تھے کہ جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں پھر جوتیوں میں دال بٹے گی مگر اسمبلی کے نئے پاکستانی مستبع داڑھی والے صدر جناب چودھری محمد ظفر اللہ خاں نے پچھلے ہفتہ ثابت کر دیا کہ وہ اسمبلی میں کسی قسم کی بد تمیزی کو یا غیر آئینی کا رروائی کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔روی نمائندوں نے جب کہا کہ جنرل کمیٹی جس کے چودھری صاحب موصوف چیئر مین ہیں اپنی ساکھ کھورہی ہے۔تو جناب چودھری صاحب نے کمال سکون سے فوراً جواب دیا کہ کمیٹی اپنے وقار کی خود محافظ ہے اور اپنے وقار کی حفاظت کرنے کی بخوبی طاقت بھی رکھتی ہے۔چودھری صاحب موصوف ایک قابل ترین قانون دان اور عالمی سیاسی مدبر ہیں۔آپ ٹھنڈے دل اور دماغ کے مالک ہیں۔آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ سیاسی ارتقاء اور انتہاء پسند تحریکوں کے دور سے گزرا ہے۔مگر آپ ہمیشہ افراط اور تفریط سے بچ کرمیانہ روی کی پالیسی کے علمبر دار ر ہے ہیں۔آپ انتہائی شائستہ اور باوقار شخصیت ہیں۔یہاں تک کہ انتہائی گرما گرم بحث کے دوران بھی لغو اور بیہودہ زور خطابت کے مقابلہ میں نکتہ رس عقلی دلائل کو ہمیشہ ترجیح دیتے ہیں اقوام متحدہ میں آپ کے بدترین مخالف ہندوستان کے رسوائے عالم آتش بیان کرشنا مین کے ساتھ کئی دفعہ آپ کی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ظفر اللہ خاں آزادی ہند کے اولین علمبرداروں میں سے ہیں مگر آپ نے جذبات کی رو میں بہہ کر اندھا دھند جد و جہد کو بھی اپنا شعار نہیں بنایا اور