تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 498 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 498

تاریخ احمدیت 498 جلد 21 دیا جائے۔وہ ہمیشہ ہی اقوام متحدہ کے مقاصد اور مطمع ہائے نظر کی بے لوث اور بے ساختہ حمایت کرتا رہا ہے اور ہر علاقے کی اقوام کے حق خود اختیاری کی علمبرداری کا فرض ادا کرنا اس کا نمایاں امتیاز رہا ہے۔پندرہ سال کی طویل مدت تک اس نے حفاظتی کونسل کی قرار دادوں کی روشنی میں کشمیر کی آزادی کے لئے تن تنہا لیکن بڑے عزم و ہمت کے ساتھ جد و جہد جاری رکھی ہے۔ہر چند کہ پاکستان کو امن پسند روش ترک کرنے پر مجبور کرنے کی انتہائی درجہ کی اشتعال انگیزی میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی گئی پھر بھی پاکستان نے ہمیشہ اس اشتعال انگیزی کا اثر قبول کرنے سے انکار ہی کیا۔اندریں حالات اس کے شہری بدرجہ اولیٰ اس امر کے مستحق ہیں کہ اس عالمی ادارے کے بہترین مفادات کی حفاظت اور خدمت بجالانے کے تعلق میں ان پر اعتماد کیا جائے۔ہمیں پورا وثوق ہے کہ دنیا نے چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب سے جو توقعات وابستہ کی ہیں آپ انہیں یقینا پورا کر دکھا ئیں گے۔افریشیائی اقوام کی برتری جنرل اسمبلی کے نئے اجلاس کا ایک امتیازی پہلو تھا۔اسمبلی ہال کے ڈائس پر ایشیا کی تین شخصیتیں رونق افروز تھیں ان میں اسمبلی کے سیکرٹری جنرل اوتھانٹ (U۔THANT) صدر اسمبلی حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اور اقوام متحدہ کی کابینہ کے سر براہ سی۔وی۔ناراسمن (C۔V۔Narismhan) شامل تھے۔18 اسمبلی کے اجلاس کی پہلی کارروائی روانڈا اور برونڈی، جمیکا اور ٹرینی ڈاڈ ٹو با گوکو اقوام متحدہ کی رکنیت عطا کرنا تھا۔جس کے نتیجہ میں اقوام متحدہ میں افریشیائی ممالک کی تعداد 53 ہوگئی۔حضرت چودھری صاحب نے نئے ارکان کا پُر جوش خیر مقدم کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ یوگنڈا کو اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کا رکن بنالیا جائے گا آپ نے فرمایا کہ یہ امر انتہائی طمانیت اور مسرت کا موجب ہے کہ الجزائر کے بہادر نڈر عوام کی آزمائش ختم ہو گئی ہے اور وہ بھی ہمارے درمیان اپنی جگہ سنبھالیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا آپ نے نئے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اقوام کے درمیان تعلق میں ایک صحت مند تبدیلی رونما ہورہی ہے اور اب تسلط اور محکومیت کی جگہ مساوات اور تعاون لے رہا ہے۔180 اقوام متحدہ میں الجزائر کی رکنیت سے حضرت چوہدری صاحب کو خاص طور پر مسرت ہوئی۔الجزائر کے صدر احمد بن بیلا نے اس موقعہ پر جو استقبالیہ تقریب منعقد کی اسے حضرت چوہدری صاحب کے نام سے منسوب کیا اور چوہدری محمد علی بوگرا سے ( جو وزیر خارجہ پاکستان کی حیثیت سے نیو یارک میں موجود تھے اور