تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 497
تاریخ احمدیت 497 (ترجمہ) چوہدری محمد ظفر اللہ خاں کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونا جس قدر آپ کی اپنی ذات کے لئے عزت افزائی کا موجب ہے اسی قدر یہ امر پاکستان کے لئے بھی ایک اعزاز کی حیثیت رکھتا ہے۔اس منصب جلیلہ پر چوہدری صاحب موصوف کو بہت بھاری اکثریت سے منتخب کیا گیا ہے۔یہ گویا ممبران اقوام متحدہ کی طرف سے ایک رنگ میں اعتراف ہے اس گونا گوں اور مختلف النوع تجر بہ کا جو آپ کو قومی اور بین الاقوامی دونوں میدان میں حاصل ہے۔کسی مرحلہ پر بھی آپ کی کامیابی مشتبہ نہ تھی بایں ہمہ اس مقابلہ کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ بھارت نے اس میں غیر معمولی دلچسپی لی اور لی بھی چوہدری صاحب کے خلاف چوہدری صاحب کی مخالفت کا مطلب یہ ہے کہ اُس نے اس معاملہ میں پاکستان کی مخالفت کی۔بھارتی حکومت کو یقینا یاد ہوگا کہ آج سے نو سال قبل پاکستان نے کس کھلے دل کے ساتھ اسی منصب کے لئے بھارت کے نامزد امیدوار کی حمایت کی تھی بڑی جائز اور معقول وجوہات کی بناء پر اُس وقت پاکستان جنرل اسمبلی کے صدارتی انتخاب میں مسٹر پنڈت کی مخالفت کر سکتا تھا۔لیکن اُس نے نہ صرف یہ کہ کوئی مخالفت نہیں کہ بلکہ خود اپنا وٹ بھی اس کے حق میں ڈالا واقعہ یہی ہے کہ بھارت نے اس موقع پر اپنی من مانی خواہشات اور تعصبات کو ایک ایسی انجمن تک پہنچانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا جسے اس قسم کے تعصبات سے پاک رکھنا ضروری ہے۔جہاں تک اس معاملے میں بھارت سے حمایت کی توقع رکھنے کا سوال تھا پاکستان کو یہ توقع نہ تھی کہ بھارت 1953ء میں اس کے ساتھ کی گئی مروت کے جواب میں مروت کا کوئی ثبوت دے گا۔لیکن اس قیاس کی گنجائش موجود تھی کہ شاید وہ تنگ دلانہ تعصبات کو ترک کر کے ایک ایسے مقام اجتماع میں جسے ہر قسم کی تنگ دلی ، بالا رکھنا ضروری ہے افراد اور معاملات کا جائزہ لینے میں وسعت نظری کا ثبوت دے۔بہر حال بھارت کا طرز عمل پاکستان کے لئے نہ خلاف توقع ہے اور نہ کسی تعصب یا اچنبہ کا باعث یقیناً بھارت کی یہی وہ روش ہے جو اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلہ پر نہ ختم ہونے والے تعطل کی ذمہ دار ہے۔کئی اعتبار سے پاکستان واضح اور نمایاں طور پر اس امر کا زیادہ اہل اور سزاوار ہے کہ اسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جیسے ادارے میں صدارت کے منصب پر فائز ہونے کا اعزاز جلد 21