تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 473 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 473

تاریخ احمدیت 473 جلد 21 مغربی یورپ سے ہے اور کوپن ہیگن کے مرکز کے دائرہ عمل میں شمالی یورپ کا تمام علاقہ شامل ہے۔یورپ کی مساجد صرف اس غرض کے لئے ہی قائم نہیں کی گئی ہیں کہ مسلمان ان میں عبادت کریں بلکہ تبلیغ اسلام کی ساری مہم ان مساجد کے ساتھ ہی وابستہ ہے۔مساجد سے ملحق کلب کے کمرے اور لائیبر یریاں وغیرہ بھی ہوتی ہیں تاکہ ان میں جماعت کے افراد باہم مل کر اپنی مساعی اور سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔یورپ کے عیسائی ممالک میں اسلام کے یہ نمائندے بدھ مت والوں کے برخلاف عیسائیت کا مقابلہ کرنے میں بہت پیش پیش ہیں ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ مسیح کی اصل تعلیم عہد نامہ جدید کے واسطہ سے تحریف کا شکار ہونے کے بعد بدلی ہوئی شکل میں آگے پھیلی ہے۔یہ مسیح کی صلیبی موت کے نظریہ کو تسلیم نہیں کرتے اس طرح سے یہ لوگ بائیبل کے مندرجات اور عیسائی معتقدات کے بارہ میں نئی تو جیہات پیش کر کے ناقص علم رکھنے والے سامعین اور قارئین کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جرمن زبان میں ان کی جو مطبوعات شائع ہوئی ہیں ان میں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام میں زمانہ حال کے جدید مسائل کا پوراحل موجود ہے اور اسلام ہی انسانی ضرورتوں کے مناسب حال وہ اکیلا مذہب ہے جو وسعت فکر تعمیر وترقی اور آزاد خیالی کا علمبردار ہے۔" حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب صدر جنرل اسمبلی 1962ء کا تیسرا ربع پوری دنیائے اسلام خصوصاً پاکستان اور جماعت احمدیہ کے لئے عالمی سطح پر بہت مبارک ثابت ہوا جبکہ 18 ستمبر 1962 ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سترھویں سالانہ سیشن کے لئے پاکستان کے مستقل مندوب حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب واضح اکثریت اور برتری کے ساتھ صدر اسمبلی منتخب کر لئے گئے۔پاکستان کے وقیع انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز کے امریکہ میں مقیم خصوصی نامہ نگار نے اس ضمن میں مفصل آرٹیکل بھجوایا۔اس کا عنوان ہی یہ تھا کہ "Clear cut Victory for Zafrullah" ظفر اللہ خاں) کی فتح مبین 126 آپ کے حامیوں میں مصر سمیت تمام عرب ممالک اور بہت سے افریقی ممالک مثلاً گنی ، مالی، گھانا، کانگو اور بعض دیگر ممالک تھے اس طرح بہت سے ممالک نے معروف سیاسی وابستگیوں سے بالا ہو کر رائے شماری میں حصہ لیا۔127