تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 467 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 467

تاریخ احمدیت 467 جلد 21 روحانی بہبودی کے متعلق مشورہ خاکسار کے ساتھ ہوتا رہا۔دعوت کے بعد میزبان خاندان کی بیگمات خاکسار سے بعض فقہی مسائل کے متعلق دریافت فرماتی رہیں۔الغرض حضرت چودھری صاحب کی تقریر کا ٹرینیڈاڈ کے مسلم زعماء اور دوسرے مسلمان طبقوں کی طرف سے پُر جوش خیر مقدم کیا گیا اور آپ کی اس دینی خدمت کو خاص احترام اور عقیدت سے دیکھا گیا۔ایک بے بنیادالزام کی تردید افسوس پاکستان کے بعض شر پسند عناصر نے روزنامہ ”انجام“ پشاور (15 ستمبر 1962ء) میں آپ کی طرف یہ بے بنیاد بیان منسوب کیا کہ آپ نے ٹرینیڈاڈ کی ہمالیہ کلب میں تقریر کرتے ہوئے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام کو آخری نبی بتایا جس سے وہاں کے مسلمانوں کو شدید اذیت اور مایوسی ہوئی۔یہ پرا پیگنڈا عین اس موقع پر کیا گیا جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کا انتخاب قریب تھا اور اقوام متحدہ میں حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب (مستقل مندوب پاکستان ) کی کامیابی کے امکانات بہت روشن تھے اور اس مہم کا مقصد حضرت چودھری صاحب کی نیک شہرت کو داغدار کرنا اور خالص سیاسی مقاصد کی خاطر جماعت احمدیہ کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانا تھا۔حضرت چوہدری صاحب نے متذکرہ بالا مکتوب میں اس بیان کی واضح الفاظ میں تردید کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ اس بیان میں کوئی ایسی بات میری طرف منسوب کی گئی ہے جو نہ صرف نا جائز اور نا واجب ہے بلکہ میرے عقیدہ کے بالکل مخالف اور متضاد ہے۔“ بیت احمد یہ کلکتہ کی تعمیر کلکتہ (اب کولکتہ ) برطانوی ہند کا پہلا دارالسلطنت اور مشرق بعید کا دروازہ اور ر بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے۔یہاں جماعت احمدیہ کا قیام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں ہی ہو چکا تھا۔مگر بیت احمدیہ کی بنیا د خلافت ثانیہ کے آخری دور میں 16 ستمبر 1962ء کو رکھی گئی اور افتتاح 14 فروری 1964 ء کو عمل میں آیا۔ذیل میں جناب سیٹھ محمد صدیق صاحب بانی کے قلم سے اس بیت الذکر کے تاریخی حالات بیان کئے جاتے ہیں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ :-