تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 465 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 465

تاریخ احمدیت فرمایا کہ :- 465 جلد 21 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس موقعہ پر ایک نہایت اہم اور ضروری پیغام دیا جس میں تحریر خدام کا کام موٹے طور پر چارشاخوں میں تقسیم شدہ ہے۔اول تربیت کا کام ہے جو ہر نظام کے لئے گویا ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔دوسرے جماعت کے خلاف جو غیر از جماعت لوگوں کی طرف سے غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں انہیں دور کرنے کا انتظام ہے۔جس کے بغیر ہم اپنے ماحول میں کبھی بھی حفاظت کا سانس نہیں لے سکتے حال ہی میں جو واقعات بیت احمد یہ سرگودھا اور بیت احمد یہ ٹو بہ ٹیک سنگھ 10 کے تعلق میں رونما ہوئے ہیں وہ ہماری آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں کہ بعض متعصب غیر از جماعت لوگوں نے ہمارے خلاف غلط فہمیوں اور بدظنیوں کا ایک جال پھیلا رکھا ہے حتی کہ اس افترا سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا ہے کہ ہم نعوذ باللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) کی ختم نبوت کے منکر ہیں حالانکہ ہم جس شدت اور جس زوردار رنگ میں حضور سرور کائنات کی ختم نبوت پر ایمان لاتے ہیں وہ ایسا شاندار رنگ رکھتا ہے کہ ہمارے مخالفین اس کا عشر عشیر بھی پیش نہیں کر سکتے اور ہمارے سلسلہ کے بانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں اس ایمان سے لبریز اور بھر پور ہیں۔پس اس قسم کی غلط فہمیوں کو دور کرنا اور پُر امن طریق پر اپنے نظریات کی تشریح کرنا ہمارے نوجوانوں کا اولین فرض ہے۔تیسرے نمبر پر تنظیم ہے یعنی جماعت کے نوجوانوں کو صحت مندانہ قواعد اور مفید پروگراموں کے ذریعہ ایک لڑی میں پرو کر رکھنا تا کہ وہ قرآنی ارشاد کے ماتحت ایک ایسی دیوار بن جائیں جس کی اینٹوں کے درمیاں گویا سیسہ پگھلا کر ڈالا جاتا ہے اور اتحاد کا ایسا نمونہ دکھا ئیں کہ ایک فرد کی تکلیف سب افراد کی تکلیف کا رنگ اختیار کرے۔چوتھے نمبر پر خدمت خلق کا کام ہے یعنی خدام الاحمدیہ کا یہ فرض ہے کہ جہاں بھی اُن کے ماحول میں کوئی فرد یا افراد کسی حادثہ یا مصیبت وغیرہ کی وجہ سے تکلیف میں ہوں تو وہاں سچے مومنوں کی طرح ان کی امداد کو پہنچیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومنوں کی جماعت ایک انسانی جسم کی طرح ہونی چاہئے جس کا یہ فطری قاعدہ ہے کہ جب کوئی عضو کسی تکلیف میں مبتلا ہو تو صرف عضو کو ہی تکلیف محسوس نہیں ہوتی بلکہ سارا بدن ہی دردوکرب سے تلملا اٹھتا ہے۔