تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 464
تاریخ احمدیت 464 جلد 21 سے رواں دواں ہے اور انسان قدرت کی طاقتوں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے اور ان پر مکمل عبور حاصل کرنے کے لئے شب وروز کوشاں ہے۔اس کے نتائج بڑے امیدافز انظر آ رہے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی خوف، ڈر اور ناامیدی کے سیاہ بادل بھی امڈتے دکھائی دے رہے ہیں۔اور وسعت طاقت میں اضافہ کا باعث ہوتی ہے اور اسے خدا کی دین سمجھنا چاہیے۔خوف ان شکوک کا نتیجہ ہے جو وسیع تر علم کو استعمال میں لانے سے پیدا ہوتا ہے۔یہ وہ علمی وسعت ہے۔جس کی انسانیت دن بدن بڑھتی ہوئی تعداد میں وارث بنتی جارہی ہے۔علم کی بدولت انسانی ہاتھوں میں لامحدود طاقت کی موجودگی بھی بھیا نک خطرے کا باعث ہو سکتی ہے۔کیا اس بات کا تعین ممکن ہے کہ یہ طاقت انسان کی فلاح و بہبود کے لئے بروئے کار لائی جائے گی۔تا کہ اسے غلط طور پر استعمال کرنے کا خدشہ جاتا ر ہے؟ جہاں تک انسان کو ان معاملات میں آزادانہ رائے قائم کرنے کا حق ہے۔اس کی کوئی گارنٹی ( ضمانت ) نہیں کہ علم اور طاقت کو کیسے استعمال کیا جائے ہاں صرف مذہب کا دائرہ اختیار ہی راہ نمائی اختیار کرسکتا ہے۔اور یہ راہنمائی ہرقسم کی فلاح و بہبود پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس خوف و ہراس کا بھی خاتمہ کر دے گی۔جو سیاہ بادلوں کی نعمتوں کے غلط استعمال کی وجہ سے اس وقت تمام دنیا پر چھایا ہوا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سائنس کی بدولت ہر لمحہ بڑھتے ہوئے قوت کے اس اثاثہ کا استعمال اور اس میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی کوشش اخلاقی اور روحانی اقدار کے ہاتھ میں ہو۔ورنہ تباہی ہی تباہی ہے۔اس مقصد کے حصول کے لئے اسلام عقیدہ توحید کا پرچار کرتا ہے اور انسان کو واضح طور پر اس کے اعمال کے لئے دنیا و آخرت میں جواب دہ ٹھہراتا ہے۔یہی وہ بات ہے جو خدائی تعلیم کا اعتراف کراتی ہے اور اس تعلیم پر قائم رہنا ہی صحیح اور نیک افعال کا پیش خیمہ ہوگا۔18 سرگودھا ڈویژن کے احمدی نوجوانوں کیلئے اہم پیغام اس سال مجلس خدام الاحمدیہ سرگودھا ڈویژن کی ایک تربیتی کلاس بیت فضل لائل پور (فیصل آباد) میں ہوئی جو 24 تا 26 اگست 1962 ء جاری رہی۔