تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 38 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 38

تاریخ احمدیت 38 جلد 21 گیا۔اس دن ہمارے ایک علم دوست فلاسفر ڈاکٹر دی بینگ کا یوم پیدائش تھا آپ چونکہ علمی حلقہ میں کافی اثر رکھتے ہیں اس لئے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تعلیم یافتہ اور معزز حضرات کو مدعو کیا گیا۔اس موقع پر مکرم جناب انچارج صاحب مشن نے جناب ڈاکٹر صاحب موصوف کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے آپ کی اسلام کے متعلق دیانتدارانہ رائے اور محققانہ وسیع النظری کا اعتراف کیا اور آپ کی ان علمی خدمات کو بہت سراہا کہ جن کے ذریعہ اہل ہالینڈ کو اسلامی تعلیمات کو صحیح طور پر سمجھنے میں مددملی۔اس تقریب پر ڈاکٹر صاحب موصوف نے بھی اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کیا جس میں آپ نے مشن کی طرف سے پیدا کردہ تقریب پر شکریہ ادا کرنے کے بعد لوگوں کو اسلام کی تعلیمات کے انفرادی مطالعہ کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی جلسہ میں اخباری نمائندگان اور پریس فوٹو گرافر بھی موجود تھے۔چنانچہ جملہ کارروائی کی خبر پریس میں شائع ہوئی ایک مؤقر روز نامہ نے نمایاں جگہ پر ایک تصویر بھی دی۔مؤرخہ 11 فروری کو ہیگ شہر کے ایک مقامی ہائی سکول کے ایک گروپ کی طرف سے درخواست موصول ہوئی کہ وہ مسجد دیکھنا چاہتے ہیں نیز اسلام کے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں چنانچہ پروگرام کے مطابق مذکورہ بالا تاریخ کو ہیں افراد پر مشتمل یہ وفد ایک نگر ان کی معیت میں مسجد میں پہنچا۔اس موقع پر مکرم برادرم حافظ قدرت اللہ صاحب انچارج مشن نے پون گھنٹہ تک اسلامی تعلیمات کو ان کے سامنے بیان فرمایا۔جس کے بعد سوالات کا موقع دیا گیا۔اسلام میں عورت کا مقام اور خدا کی بادشاہت سے کیا مراد ہے که موضوعات خاص طور پر زیر بحث رہے طلبہ کو مسجد دکھلانے کے علاوہ لٹریچر بھی پیش کیا گیا۔مؤرخہ 17 فروری کو مشن ہاؤس کے ہال میں ایک مجلس علمی کا انعقاد ہوا جس میں ممبرات نے حصہ لیا اسلام اور احمدیت کے اہم مسائل پر گفتگو کے علاوہ کیتھولک تنظیم اور ان کے طریق کار ورسم و رواج پر دیر تک بحث ہوتی رہی۔24 فروری کو مشن ہاؤس میں ایک جلسہ کا اہتمام کیا گیا۔جس میں رمضان المبارک کے متعلق تقاریر ہوئیں۔متعد داخباری نمائندگان بھی موجود تھے۔اس موقعہ پر مکرم انچارج صاحب مشن کی نگرانی میں جماعت کے تین ممبران نے تقاریر کیں۔سب سے قبل ہمارے نو مسلم ڈچ عبدالرحمان (A۔R STEENHOUWER) نے رمضان المبارک کی آمد کا ذکر کرتے ہوئے روزہ کی غرض وغایت پر روشنی ڈالی اور حاضرین کو بتلایا کہ اس سے مراد صرف یہ نہیں کہ بھوک پیاس برداشت کی جائے۔بلکہ ماہ صیام مسلمانوں کے لئے بہت سی برکات حاصل کرنے کے مواقع بہم پہنچاتا ہے۔جیسے خدا تعالیٰ کی کچی فرمانبرداری ، نفسانی خواہشات پر مکمل قابو، حصول قرب الہی اور ان