تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 448
تاریخ احمدیت 448 جلد 21 نصیب ہوئی ہے۔اسلام کی اس صحیح تعلیم پر عمل پیرا نہ ہو جائیں جس کی طرف اس زمانہ میں حضور علیہ السلام نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔اسلام کی بنیادی تعلیم تقویٰ ہے۔ہمیں ہر کام میں ہمیشہ تقولی یعنی خدا کا ڈر مد نظر رکھنا چاہیے۔ہر کام کرتے وقت یہ دیکھیں کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس سے ناراض تو نہیں ہو گا۔“ اس تعلق میں آپ نے حضور کی کشتی نوح میں بیان فرمودہ تعلیم کا ایک اہم اقتباس بھی درج فرمایا جس میں حضور نے ارشادفرمایا ہے کہ :- د نیکی کوسنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کر دو۔یقیناً یا درکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو تقویٰ سے خالی ہو۔ہر ایک نیکی کی جڑ تقوی ہے۔حضرت چوہدری محمد حسین صاحب کا بابرکت قیام انگلستان اور اس کے ثمرات قمرالانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت مصلح موعود کے عمر بھر دست و بازو بنے رہے اور ہر میدان میں ایسی سنہری خدمات انجام دیں جو چاند ستاروں کی طرح آسمان احمدیت پر ہمیشہ درخشندہ و تابندہ رہیں گی۔آپ حضرت مصلح موعود کا عکس جمیل تھے اور حضور ہی کی طرح آپ کو نو جوانان احمدیت کی تربیت و اصلاح کا فکر ہمیشہ دامنگیر رہتا تھا۔اُن دنوں دنیا کے مایہ ناز سائنسدان اور بطل احمدیت ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے والد حضرت چوہدری محمد حسین صاحب لنڈن میں قیام فرما تھے اور منجھلے بھائی چوہدری عبدالحمید صاحب مغربی جرمنی میں۔چوہدری عبدالحمید صاحب کا حضرت قمر الانبیاء کی خدمت میں ایک مکتوب موصول ہوا جس میں ڈنمارک، ہالینڈ اور مغربی جرمنی کے احمدی مشنریوں کی کامیاب دینی مساعی کا تذکرہ تھا۔آپ کو اس خوشکن اطلاع سے دلی مسرت ہوئی اور آپ نے 26 جون 1962 ء کو ان کے نام حسب ذیل گرامی نامہ ارسال فرمایا:- بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود عزیزم مکرم ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط ملا۔اللہ تعالیٰ آپ کو کامیاب و با مراد کر کے واپس لائے اور دین و دنیا میں ترقی دے۔الحمد للہ کہ کوپن ہیگن اور ہالینڈ اور مغربی جرمنی کے مشن کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں اور وہاں کے نومسلموں میں اخلاص پایا جاتا ہے۔اب تو آپ کے بھائی عبدالماجد