تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 447
تاریخ احمدیت 447 جلد 21 پر جماعت احمدیہ کی طرف سے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور خارجه صدرانجمن احمدیہ پاکستان نے ایک برقیہ کے ذریعہ مبارک باد دی اور اگلے روز 9 جون کو حضرت مصلح موعودؓ نے صدر پاکستان محمد ایوب خاں کو نئے آئینی دور کے آغاز پر حسب ذیل برقی پیغام ارسال فرمایا:- پاکستان کو پہلے سے بڑھ کر پُر مسرت اور خوشحال تر بنانے کی مساعی میں میری دعائیں اور نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی برکت سے نوازے اور اس تعلق میں آپ کی مساعی کو بابرکت فرمائے۔“ مرزا بشیر الدین محمود احمد - امام جماعت احمد به خدام الاحمدیہ کراچی کے نام دو اہم پیغامات منعقد ہوئی۔مجلس خدام الاحمدیہ کراچی کے زیر اہتمام 21 تا 30 جون 1962ء کو ایک دس روز ہ تربیتی کلاس 97۔جس کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے نہایت اہم پیغامات دیئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنے روح پر دور پیغام میں تحریر فرمایا کہ : - ”آپ لوگ یہ بات ہمیشہ یادرکھیں کہ اگر کام کرنے والوں کا کردار بلند ہو اور نیتیں پاک اور صاف ہوں اور قوت عمل پیدا ہو تو وہ عظیم الشان کام کر سکتے ہیں۔درحقیقت ایسے نوجوان روحانی مقناطیس کا رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔جو دوسرے لوگوں کو اس طرح اپنی طرف کھینچنے کی طاقت رکھتا ہے جیسا کہ ظاہری مقناطیس لوہے کے ٹکڑے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔پس اپنے اندر سچا علم پیدا کریں اور اس مقصد کو کبھی نہ بھولیں جو احمدیت آپ کے سامنے پیش کرتی ہے۔یعنی دنیا میں روحانیت اور اخلاق کا غلبہ۔اگر آپ اس غلبہ کے لئے اپنے 98 166 آپ کو تیار کر لیں گے۔تو آپ یقینا آسمان کے چاند اور ستارے بن جائیں گے۔حضرت میاں ناصر احمد صاحب نے اپنے مختصر پیغام میں خدام کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقصد بعثت پر غور کرتے رہنے کی تلقین فرمائی اور بتایا کہ :- حضور کی تشریف آوری کی اصل غرض یہ تھی کہ راہ گم گشته انسان ایک بار پھر اپنی جبین آستانہ الوہیت پر رکھ دے اور سب کچھ اسی کو سونپا جائے اور یہ ہو نہیں سکتا جب تک کہ ہم جو حضور علیہ السلام پر ایمان لاتے ہیں اور جنہیں سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کی سعادت