تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 446
تاریخ احمدیت 446 جلد 21 میں نے جانا شروع کیا ہے لڑکے اتنے خوش ہیں کہ بعض اوقات تو مجھے رونا آجاتا ہے اور میں بڑی مشکل سے ضبط کرتا ہوں۔ہفتہ میں صرف ایک دفعہ جانے سے ہی یہ یتیم بچے مجھے بالکل اپنا باپ سمجھنے لگے ہیں اور مجھے سے بہت بے تکلف ہو گئے ہیں۔کوئی میری ٹانگوں سے چمٹ جاتا ہے کوئی ہاتھ پکڑ لیتا ہے اس طرح گیارہ بجے تک ان کے پاس رہتا ہوں ان کو بھی تسلی ہو جاتی ہے اور مجھے بھی خوشی ہوتی ہے۔مولوی محمد احمد صاحب جلیل سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ تحریر فرماتے ہیں:۔92 ”میر صاحب مرحوم کے ذرائع آمد محدود تھے۔مگر آپ بڑے غریب پرور تھے۔اپنی گرہ سے یا جہاں سے بھی مہیا کر سکیں۔کئی غریبوں کی ضروریات پوری کرتے رہتے۔کئی بے تکلف دوستوں نے متعدد بار اُن سے خاصی بڑی رقوم لے کر بعض ضرورت مندوں میں تقـ کیں۔یتیم اور نادار طالب علموں کا ادارہ دارالاقامہ النصرۃ آپ کی غریب پروری کا آئینہ دار ہے۔میر صاحب کی شفیقا نہ توجہ سے کئی بیوہ ماؤں کے نادار بچے علم حاصل کر کے یا ہنر سیکھ کر برسر روزگار ہو گئے اور جماعت پر بار بننے کی بجائے جماعت کے مفید رکن بن گئے۔22 جون 1973ء کومیر داؤد احمد صاحب کی وفات کے بعد یہ ادارہ حضرت خلیفتہ امسح الثالث کی منظوری سے صدر انجمن احمد یہ پاکستان کے تحت مشروط بآمد شعبہ کے طور پر سر گرم عمل ہو گیا اور اس کا نام حضور نے ”مد امداد طلبہ رکھا اور اس کے نگران سید محمود احمد صاحب پروفیسر جامعہ احمدیہ مقرر ہوئے جو 18 نومبر 1978 ء تک یہ فرائض انجام دیتے رہے۔آپ کے بعد یہ شعبہ صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کی زیر نگرانی 17 جولائی 1983 ء تک جاری رہا۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے 3 اگست 1983 ء کوارشاد فرمایا:- تمام وظائف تعلیم کا انتظام ناظر صاحب تعلیم بحیثیت ناظر تعلیم کریں گے۔مد امداد طلبہ کو بھی آئندہ سے ناظر صاحب تعلیم کنٹرول کریں گے۔“ دسمبر 1986ء میں اس شعبہ سے میٹرک سے لیکر یونیورسٹی کی سطح تک کے 90 طلبا وطالبات امداد حاصل کر رہے تھے۔حضرت امام جماعت احمدیہ کا برقی پیغام صدر پاکستان کے نام پاکستان میں ساڑھے تین برس تک ملک کا نظم ونسق مارشل لاء کے تحت چلایا گیا۔8 جون 1962ء کو مارشل لاء ختم کر دیا گیا اور ملک میں آئینی زندگی کی بحالی کے لئے ایک نیا آئین نافذ کر دیا گیا جس کے تحت فیلڈ مارشل ایوب خاں نے جمہوریہ پاکستان کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔اس تقریب