تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 442 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 442

تاریخ احمدیت 442 جلد 21 خیالات کا قلع قمع کرتی ہے اور دوسری طرف وہ مسیحیت کے قلعے پر ایک ایسی بمباری کا حکم رکھتی ہے جو گویا ایک ہی ضرب میں مسیحیت کا خاتمہ کر دیتا ہے۔آپ ضرور اس طرف خاص توجہ دیں اور اپنے طلباء کو اس مسئلہ کی اہمیت سمجھا ئیں تا کہ کسر صلیب کا کام تکمیل کو پہنچ جائے۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں مسیحی مشنریوں نے اپنا بوریا بستر اباندھنا شروع کر دیا تھا مگر اب پھر انہوں نے کچھ عرصہ سے نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونی ممالک میں بھی سر اٹھانا شروع کیا ہے آپ کی درسگاہ چونکہ جماعت کا آرسنل (ARSENAL) ہے اس لئے آپ کو اس طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد 02-04-28 2- عزیزم مکرم پرنسپل صاحب جامعہ احمد یہ ربوہ آپ کا مفصل خط 62-05-148/24 موصول ہوا۔خدا کے فضل سے مسیحیت کے متعلق آپ کا نصاب اور پروگرام بہت خوب ہے اس میں حسب حالات توسیع ہوتی چلی جائے گی۔مسیح کی وفات کے مسئلہ پر خاص زور ہونا چاہیے۔نہ صرف اس لئے کہ اس سے صداقت مسیح موعود کا رستہ کھلتا ہے بلکہ اس لئے کہ مسیح" کی وفات کے ساتھ ہی مسیحیت پر بھی موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک انسان رسول سے بڑھ کر مسیح کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی اور انسان رسول کی حیثیت میں بھی کئی دوسرے رسولوں سے کم تر۔پس وفات مسیح کے عقیدہ کو نہ صرف قرآن مجید سے بلکہ انجیل سے اور تاریخی شواہد سے اس طرح قطعی طور پر ثابت کیا جائے کہ دنیا پر حیات مسیح کے عقیدہ کا پول کھل جائے۔اس کے ساتھ ہی الوہیت مسیح اور تثلیت اور کفارہ کا بھی خاتمہ ہو جائے۔حضرت مسیح موعود کے ہاتھ میں خدا نے یہ ایک ایسا زبردست حربہ دیا ہے کہ جس کے سامنے مسیحیت بالکل بے دست و پا ہے۔پس اس پر خاص زور دیا جائے۔علاوہ ازیں جن قرآنی آیات سے مسیحی لوگ مسیح کی افضلیت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ان کی حقیقی تشریح واضح کی جائے مثلا مسیح کا بے باپ ہونا۔مسیح کا کلمتہ اللہ ہونا۔مسیح کا پرندے پیدا کرنا اور مسیح کا مردے زندہ کرنا وغیرہ یہ سادہ سے مسائل ہیں مگر مسیحی لوگوں نے ان سے نادان مسلمانوں کے سامنے بڑا فائدہ اٹھایا ہے۔آپ نے نصاب میں حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے رسالوں اور مولوی ابوالعطاء صاحب کے رسالہ کا ذکر نہیں کیا۔یہ دونوں ٹھوس رسالے ہیں جن کے مقابل پر مسیحی منا دتڑپتے ہوئے رہ جاتے ہیں۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ اپنے طالب علموں کے دلوں سے میسحیت اور دجالیت اور