تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 440 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 440

تاریخ احمدیت 440 جلد 21 اسے اور اس کی نسل کو ہمیشہ اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں رکھ۔(5) جماعتی دعاؤں میں سورۃ فاتحہ اور درود کے علاوہ اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے بہت دعا کریں۔حضرت صاحب کی صحت کے لئے اور خاندان حضرت مسیح موعود کے لئے اور ام مظفر کے لئے اور عزیز مظفر احمد کی اولاد کے لئے اور میری جملہ اولاد کے لئے اور مرکزی کارکنوں کے لئے اور جماعت کے امراء کے لئے اور حضرت مسیح موعود کے ( رفقاء) کیلئے اور تمام جماعت کے لئے سارے سفر کے دوران میں اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں در دوسوز کے ساتھ دعائیں کریں۔(6) مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں عرب قوم اور عالم اسلام کے لئے بھی خاص طور پر دعا کریں کیونکہ ان کے ذریعہ ہمیں اسلام کا ابتدائی نور پہنچا ہے اور یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو کمزوری کی حالت میں سے نکال کر پھر طاقت اور غلبہ اور روحانی نور کا جلوہ عطاء کرے۔(7) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار کی زیارت حاصل ہو تو اس عاجز کا محبت بھر اسلام پہنچائیں اور حضور کے مزار مقدس کے سامنے کھڑے ہو کر وہ سب دعا ئیں دہرائیں جوا و پرلکھی گئی ہیں اور میرا دل حضور کے سامنے رکھ دیں۔(8) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جملہ خاندان اور ہمارے ماموؤں اور ان کی اولاد کو بھی دعاؤں میں یا درکھیں اور حضرت مسیح علیہ السلام کی جملہ اولاد ذكور واناث کے لئے بھی خاص دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور تقویٰ پر قائم رکھے اور جماعت کے لئے نمونہ بنائے اور ان کو دین کی نمایاں خدمت کی توفیق دے۔حضرت خلیفہ اول کی اولاد کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو نیکی کی توفیق دے اور غلطیوں کی اصلاح کا رستہ کھولے اور خلافت کے ساتھ مخلصانہ وابستگی نصیب کرے۔(9) یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میری تمام دعاؤں کو قبول فرمائے اور ان تمام نیک خواہشات کو پورا کرے جو جو میرے دل میں بچپن سے لے کر اس وقت تک وقتا فوقتا پیدا ہوئی ہیں اور میرے نفس کو اس طرح اپنی محبت اور تقویٰ کے ذریعہ دھودے كما ينقى الثوب الابيض من الدنس۔اور مجھے قیامت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قرب اور حضور کی خوشنودی حاصل ہو اور میرے جملہ عزیز بھی آخرت میں میرے ساتھ رہیں۔(10) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ( رفقاء) کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی نیک زندگیوں میں برکت دے اور ان کے روحانی فیوض کو لمبا کرے اور جماعت کے نو جوانوں کو توفیق دے کہ اُن سے تقویٰ اور روحانیت کا سبق سیکھیں اور یہ نیکی کا ورثہ قیامت تک چلتا چلا جائے۔الغرض ارض حرم سے اپنی