تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 434
تاریخ احمدیت 434 جلد 21 اعتراض وارد ہو سکتا ہے؟ 4 چوتھی وجہ وجود کوضرور تسلیم کرتی ہے اور جب سرگودھا میں تمام فرقہ ہائے اسلام کو مسجد تعمیر کرنے کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے جگہیں دی گئیں تو پھر اس خاص فرقہ سے کیوں سوتیلوں والے سلوک کوروا رکھنے کی فہمائش کی جاتی ہے۔ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ سمندر میں قطرہ افراد پچاس ہزار روپیہ سالانہ کے قریب با قاعدہ بجٹ کی صورت میں تبلیغ اسلام اور بیرونی غیر اسلامی ممالک میں مساجد کی تعمیر کے لئے چندہ مہیا کرتے چلے آ رہے ہیں اور اُن کی یہ مستقل قربانی جو انہوں نے خوشی سے اپنے اوپر فرض کر رکھی ہے دوسروں کو شرمندہ کرنے کے لئے کافی ہے۔حکومت کے لئے ان سب امور کو سوچنے کا دراصل وقت زمین کی عطا ئیگی سے قبل تھا اور اب جبکہ مسجد کی تعمیر کیلئے حکومت کے ذمہ دار افسران ایک جگہ منظور کر کے دے چکے ہیں وہاں پر مسجد تعمیر ہو چکی ہے اور با قاعدہ طور پر نمازیں ادا ہورہی ہیں تو پھر کسی شر پسند عصر کے خوامخواہ شور سے ہم حیران ہیں کہ تعصب اور بیجا دشمنی انسان کو کہاں سے کہاں تک پہنچا دیتی ہے اور اندھی مخالفت غلط دلائل پیش کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ان حالات میں حکومت کے لئے معاملہ کی صحیح پوزیشن کو دیکھنا یقینا آسان اور واضح ہے۔حضرت مرزا عبدالحق صاحب امیر صوبہ پنجاب کا بیان ہے:۔سالہا سال کی کوشش کے بعد جماعت احمد یہ سرگودھا کو 1961ء کے قریب بیت الاحمدیہ کیلئے 4 کنال زمین حکومت سے خرید کرنے کی اجازت ملی رجسٹری بیع ہوگئی قبضہ مل گیا اور انتقال ہو گیا تو مولویوں کا ایک وفد نواب صاحب کالا باغ ( جو اسوقت گورنر مغربی پاکستان تھے ) کے پاس گیا انہوں نے اس بیع کو منسوخ کر دینے اور قبضہ واپس لینے کا حکم دیا۔ہم نے اس حکم کے خلاف عدالت عالیہ ہائی کورٹ لاہور میں رٹ دائر کی لیکن یہ رٹ 12 جون 1963ء کو اس بناء پر خارج کر دی گئی کہ اسکے متعلق با قاعدہ دعویٰ عدالت دیوانی میں ہونا چاہیے بیت الاحمدیہ کا کچھ حصہ اسوقت بن چکا تھا۔عدالت عالیہ ہائیکورٹ کے حکم کے خلاف ہم نے سپریم کورٹ میں اپیل کی وہاں ہماری اپیل منظور ہوئی اور کیس واقعات کی بناء پر فیصلہ کرنے کیلئے ہائیکورٹ کو ریمانڈ کیا گیا۔ہائیکورٹ نے بالآخر ہماری رٹ 73-1972ء میں منظور کر لی اور ہمیں اس جگہ بیت الاحمدیہ بنانے کی اجازت دے دی۔حکومت نے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں کوئی اپیل نہ کی اس لئے یہ فیصلہ حتمی ہو گیا اور ہم نے 1973 ء میں بیت الاحمدیہ کی تعمیر شروع کر دی۔