تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 433 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 433

تاریخ احمدیت 433 جلد 21 اس اخبار نے 28 مئی 1962ء کو "جامع مسجد جماعت احمد یہ سرگودھا“ کے عنوان سے درج ذیل ادار یہ بھی سپرد قلم کیا :- اخبار وفاق مورخہ 19 مئی کا شمارہ اس وقت ہمارے سامنے ہے اور ہم افسوس کے ساتھ بار بار ان چند سطور کو پڑھتے ہیں جو جماعت احمد یہ سرگودھا کی جامع مسجد تعمیر کرنے کے بارے میں ایک عرضداشت کے ذریعہ مملکت کے سر براہ کی خدمت میں بھیجی گئی ہے۔اس عرضداشت میں مندرجہ ذیل وجوہ کی بناء پر صدر مملکت کی خدمت میں گزارش کی گئی ہے کہ جماعت احمدیہ کو نیوسول لائن میں مسجد بنانے سے روک دیا جائے۔1- اس علاقہ میں مرزائیوں کا ایک گھر بھی نہیں ہے۔2- یہ جگہ مقامی گرلز ہائی سکول کے قریب ہے۔3۔اس جگہ سے اہل سنت والجماعت کی عید گاہ 300 گز کے فاصلہ پر ہے۔4- سرگودھا میں قادیانیوں کی تعدا د سمندر میں قطرہ کے مترادف ہے۔ہم نے غیر جانبداری سے ان وجوہ کی چھان بین کی ہے اور افسوس ہے کہ ان میں ایک بات بھی وزن دار ثابت نہ ہو سکی۔حقیقت بھی یہی ہے کہ اس امر یا میں احمدیوں کے تقریب بارہ سے پندرہ گھرانے آباد ہیں اور مزید تحقیق کے مطابق کسی ایک بلاک میں احمدیوں کی اتنی کثیر تعداد یکجا آباد نہیں ہے۔2- گرلز سکول مسجد کی جگہ سے کافی فاصلہ پر ہے۔بہت سوچ بچار کے باوجود اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آئی کہ مسجد کے قرب سے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے اور ایک محتاط اندازہ کے مطابق سینما ہاؤس اور ٹرک سٹینڈ ، سبزی منڈی اس سے زیادہ قریب ہیں۔3- عیدگاہ ضرور قریب واقع ہے لیکن اس میں داخلہ کا راستہ کوٹ دیواسنگھ کی سڑک پر ہے اور پھر اس میں ہجوم کی آمد صرف سال میں دوبار ہوتی ہے۔ایک فرقہ کی عبادت گاہ کا دوسرے فرقہ کی عبادت گاہ سے اگر کوئی فاصلہ ضرور ہونا چاہیے تو ہم ان احباب سے دریافت کرتے ہیں کہ 19 بلاک میں واقع مسجد اہلحدیث اور شیعہ حضرات کا مدرسہ دار السلام محمد یہ صرف ایک گلی یعنی زیادہ سے زیادہ 8 فٹ کے فاصلہ پر کبھی تنازعہ کا موجب نہیں ہے۔پھر جماعت احمدیہ کے افراد آج تک جہاں نماز عید ادا کرتے چلے آرہے ہیں وہ دوسرے فرقہ کے عید پڑھنے کے مقام سے بالکل ملحق ہے اور داخلہ کا بھی ایک ہی راستہ ہے جب اس قدر قریب میں نماز عید ادا کرنے میں کوئی عیب نظر نہیں آیا تو عید گاہ سے تین سو گز کے فاصلہ پر جامع مسجد کی تعمیر پر کیا معقول