تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 423 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 423

تاریخ احمدیت 423 جلد 21 حبیب الرحمن صاحب کو للکارا اور مباہلہ میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا تو اسوقت سورو کے ایک غیر احمدی نے ( جو مباہلہ میں شامل تھا) کہا کہ ہمارا مولوی حبیب الرحمن شیر ہے جس پر مولانا بشیر احمد صاحب فاضل نے فرمایا اگر وہ شیر ہیں تو میرے مقابل پر مباہلہ میں آئیں کیوں گیدڑ بن کر بزدلی دکھاتے ہیں۔اس پرسید شمشاد علی ( مولوی حبیب الرحمن کے مرید) نے اپنی جوانی کے گھمنڈ میں آنکھیں دکھا کر کئی بار مولانا بشیر احمد صاحب کی طرف قدم بڑھایا اور کہا کہ ہمارے مولانا کی توہین کرتے ہو۔اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے تکبر وغرور کو اس رنگ میں توڑا کہ مباہلہ کے چند دنوں بعد وہ اپنے ماموں سے زمین کے متعلق جھگڑا کرنے لگا جس پر اُس کے سالے نے اس کی جوتوں سے خوب مرمت کی۔5- سید کلیم الدین صاحب رئیس سور و مباہلہ میں شامل تھے اور بڑا بول بولنے والے تھے اور سورو کے غیر احمدی مخالفین کے روح رواں تھے یہ صاحب ہندوؤں کے غیظ وغضب کا نشانہ بنے۔علاوہ ازیں وہاں کی مسجد کے چندہ کے سلسلہ میں اُن کی پبلک میں سخت بدنامی ہوئی۔6- عبدالرشید خاں سورو پر خدا کی طرف سے یہ آفت پڑی کہ گورنمنٹ نے تقریباً ڈیڑھ ہزار کی بھاری رقم بابت سیل ٹیکس اُن سے چارج کی اور مقدمہ میں الجھ کر مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہوئے۔-7- سید بشیر الدین خلیفہ صاحب سورو۔ان صاحب نے میدان مباہلہ میں مولوی حبیب الرحمن صاحب کو شیر اور مبلغ احمدیت مولانا بشیر احمد صاحب کو بھیڑیا کہہ کر خدا کی غیرت کو چیلنج کیا تھا خدائے غیور کا عذاب شدید اس شخص پر چیچک کے شدید حملہ کی صورت میں نمودار ہوا یہی وہ عذاب تھا جس سے ابر ہ کالشکر جر ار تباہ و برباد ہوا تھا۔الغرض مولوی حبیب الرحمن صاحب کے تمام ساتھی اور ہمنوا جو اس مباہلہ میں شریک ہوئے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر پہلو سے ذلیل ورسوا کر کے رکھ دیا اور وہ لوگوں کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے اور یہ سب واقعات اس لئے ہوئے کہ وہ خدا جو بچوں کا حامی ہے یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ میدان مباہلہ میں انہوں نے جو بار بار کہا کہ مرزا صاحب (معاذ اللہ ) جھوٹے نبی ہیں ان کو بتا دے کہ تمہارا کہنا سراسر غلط اور بالبداہت باطل ہے اور ساری دنیا پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی سچائی سورج کی طرح نمایاں کر دے بالآخر یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ 25 مارچ 1962 ء کو جب سورو میں مباہلہ ہوا مولانا بشیر احمد صاحب فاضل نے مولوی حبیب الرحمن سے بات چیت کرتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں کے وفد کی نسبت ارشاد فرمایا تھا کہ اگر یہ لوگ مباہلہ کرتے تو ایک سال کے اندر اندر اس مباہلہ کا نتیجہ دیکھ لیتے لہذا امدت مباہلہ ایک سال ہوگی۔جسے مولوی حبیب الرحمن صاحب نے تسلیم کر لیا لیکن مجمع میں