تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 422 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 422

تاریخ احمدیت 422 جلد 21 ہے کہنے لگے ارے بھائی دیکھو قا دیانیوں سے سورو میں مباہلہ ہوا تھا۔میں بھی اس میں شریک تھا مگر ہمارے بھائی ہمارے پیچھے پڑگئے ہیں میری بے عزتی کرتے ہیں گالی گلوچ کرتے ہیں اگر قادیانی یہ خبر سن پائیں تو بہت برا ہوگا۔50 الغرض تینوں صاحبان نے مباہلہ کے بعد ذلت وخواری اور عذاب شدید کا ایسا مزہ چکھا کہ نشان عبرت بن گئے۔دوسرے غیر احمدیوں کا حشر مباہلہ میں شامل ہونے والے دوسرے غیر احمدیوں کا حشر بھی بہت عبرتناک ہوا مثلاً 1- حافظ برکت اللہ صاحب امام الصلوۃ جامع مسجد بھدرک جنہوں نے سورو کے میدان مباہلہ میں احمدیوں کے خلاف یا مردود“ کا نعرہ بلند کیا تھا۔زنا جیسے شرمناک اور گھناؤنے فعل کا ارتکاب کر کے بھاگ گئے اور خدا اور اس کے بندوں کی نظر میں ہمیشہ کے لئے مردود ہو گئے۔2- حافظ برکت اللہ صاحب کے بعد جامع مسجد میں حافظ شوکت علی صاحب کو جو مباہلہ میں شامل تھے امام الصلوۃ مقرر کیا گیا لیکن چند دنوں کے بعد ہی اکثر نمازیوں نے اُن کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کر دیا۔انہوں نے صحن مسجد کے آخری حصہ میں مدرسہ کاظمیہ کے بعض طلبہ کو لے کر الگ جماعت کرانا شروع کر دی مگر بالآخر کافی تکا فضیحتی اور دھکم دھکا کے بعد مسجد سے نکال دیئے گئے۔3- مباہلہ سور و میں جامع مسجد بھدرک کے ملحقہ کمروں میں قائم مدرسہ کاظمیہ کے قریباً ایک درجن طلبہ نے شرکت کی تھی۔یہ مدرسہ مولوی حبیب الرحمن صاحب نے اپنے ہم نواؤں کی مدد سے قائم کیا تھا۔اس مدرسہ کے طلبہ سور و کو جاتے وقت زور زور سے نعرے بلند کر رہے تھے گویا اُن کی فتح یقینی ہے۔مگرا بھی مباہلہ پر تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ ان کی کرتوتوں کو دیکھ کر ان پر چاروں طرف سے لعنت و ملامت کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔شہر کے قریباً یک صد آدمیوں نے متولی صاحب جامع مسجد اور مسلمانان بھدرک کے نام 28 ستمبر 1962 ء کو تحریری درخواست دی کہ جامع مسجد و مدرسہ کاظمیہ گویا کہ اختلاف وفتنہ وفساد کا گھر بن گئے ہیں۔موجودہ کمیٹی جو پارٹی بازی اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑکاتی رہتی ہے اسے توڑ دیا جائے اور مدرسہ کاظمیہ کو مسجد کے ملحقہ مکان سے بالکل ہٹا لیا جائے۔چنانچہ مولوی حبیب الرحمن صاحب کی حامی کمیٹی توڑ دی گئی جس سے مدرسہ کا ظمیہ کے طلبہ گویا یتیم ہو گئے اور ان کی پہلی سی آن بان یکسر ختم ہوگئی۔4- سید شمشاد علی صاحب : میدان مباہلہ میں جب محترم مولانا بشیر احمد صاحب فاضل نے مولوی