تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 421 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 421

تاریخ احمدیت 421 جلد 21 کے بعد ا کثر لوگوں نے ان کی امامت کو خیر باد کہ دیا حتی کہ عید الفطر اور عیدالاضحیٰ کی تقریبات جو ان حضرات کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہوتی ہیں نمازیوں کی قلت کے باعث خالی گذر گئیں اور مالی لحاظ سے انہیں سخت دھکہ لگا ان کی نوجوان بیٹی ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہو گئی اور اس کے علاج پر تین صد خرچ ہو گیا۔مولوی صاحب کا خیال تھا کہ یہ رمضان اُن کے لئے کمائی کا عمدہ ذریعہ ہوگا۔اُن کا ایک بیٹا حافظ تھا اور رمضان شریف میں ثمن قلیل پر تراویح پڑھایا کرتا تھا۔انہوں نے سوچا کہ تراویح کی بابرکت آمد سے لڑکی کی شادی کر دی جائے گی مگر وہ رقم بھی ڈاکٹروں کی جیب میں چلی گئی اور اس سال شادی بھی نہ کی جاسکی۔غرضیکہ عذاب شدید نے اُن کے گھر میں اسطرح ڈیرہ ڈال لیا کہ ضربت عليهم الذلة والمسكنہ“ کا منظر سامنے آ گیا۔مولوی شوکت علی صاحب سابق ہیڈ مولوی مدرسہ نعمانیہ بھدرک خدائے جبار قہار کی جب لاٹھی چلی تو یہ مولوی صاحب بھی اپنے ساتھیوں کی طرح اس کی زد میں آگئے پہلے تو مینجنگ کمیٹی مدرسہ نعمانیہ کے سیکرٹری صاحب نے اُن کی جواب طلبی کی کہ وہ میری اجازت کے بغیر مباہلہ میں شرکت کیلئے سورو کیوں گے تھے؟ کمیٹی میں ان کا معاملہ پیش ہوا تو وہ کھڑے ہو کر جواب دینے لگے مگر سیکرٹری صاحب نے زبردست ڈانٹ پلائی اور کہا اپنی تقریر بند کر دیں۔اس کے بعد چند ماہ تک وہ صدر وسیکرٹری کمیٹی کی نگرانی میں بہت سہمے ہوئے کام کرتے رہے اور بالآخر اس نوکری سے بھی نہایت ذلت وخواری سے انہیں ہاتھ دھونا پڑا جس کی بظاہر وجہ یہ ہوئی کہ 16 مارچ 1963ء کو جبکہ میعادمباہلہ کے ختم ہونے میں چند دن باقی تھے وہ سیکرٹری کمیٹی کی ممانعت کے باوجود بالیسر میں وعظ شریف کے لئے گئے۔جس پر کمیٹی نے متفقہ فیصلہ کیا کہ مولوی صاحب استعفاء دے کر ملازمت سے علیحدہ ہو جائیں۔لیکن مولوی صاحب نے استعفاء دینے سے گریز کیا۔کمیٹی نے سٹینڈنگ آرڈر کے ذریعہ نوکری سے ڈسچارج کر دیا اس پر بھی مولوی صاحب نے چارج نہ دیا۔کمیٹی کے صدر اور سیکرٹری نے یہ معاملہ پولیس کے سپرد کرنا چاہا تا بذریعہ پولیس انہیں مدرسہ سے نکلوا دیا جائے۔سیکرٹری صاحب اس معاملہ کو طے کرنے کے کیلئے تھانہ جارہے تھے کہ کمیٹی کے ایک ممبر یونس صاحب نے سیکرٹری صاحب سے کہا کہ آپ کچھ وقت رک جائیں میں مولوی صاحب کو سمجھاتا ہوں بالآخر اُن کے سمجھانے پر ہیڈ مولوی صاحب نے بادل ناخواستہ چارج دیا اور بہت بے آبرو ہو کر مدرسہ سے نکال دیئے گئے۔وہ رہائشی مکان جہاں وہ مع اہل وعیال قیام پذیر تھے چھن گیا ساتھ ہی مسجد ملاں ساہی کی امامت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا جس کے بعد وہ سر بازار ایک تنگ و تاریک کمرہ میں اپنی زندگی کے دن گزار نے لگے۔ایک دن کسی شخص نے مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ مباہلہ کا کیا معاملہ -