تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 397 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 397

تاریخ احمدیت 397 مبائع تاجر نہیں ہے۔معمولی ہیں ان کی اور بات ہے۔سیٹھ عبداللہ صاحب کو خدا تعالیٰ نے شروع خلافت میں ہی دے دیا اور انہوں نے اسی وقت نہایت سرگرمی کے ساتھ تبلیغ شروع کردی۔جس پر آج بائیس تئیس سال کا زمانہ گزررہا ہے۔مگر ان کے جوش تبلیغ میں فرق نہیں آیا۔ان پر خدا تعالیٰ کا یہ بھی فضل ہو گیا کہ وہ پہلے بہت اونچا سنتے تھے۔کان پر ایک گچی سی لگا کر بیٹھتے تھے اور جوں جوں انسان کی عمر بڑھتی ہے یہ مرض بڑھتا جاتا ہے۔اس وقت کہا کرتے تھے کہ دُعا کریں کان درست ہو جائیں تا کہ تقریر میں اچھی طرح سُن سکوں۔اب خدا تعالیٰ نے ان پر ایسا فضل کیا ہے کہ کان کے پیچھے ہاتھ رکھ کر دور بیٹھے ہوئے بھی سُن لیتے ہیں پہلے تو اُن کی یہ حالت تھی کہ میرے سامنے میز پر بیٹھ کر یا میز سے ٹیک لگا کر یالا وڈسپیکر کا سا آلہ کان سے لگا کر سنا کرتے تھے۔میں نے ان کے اخلاص اور تبلیغی خدمات کا اس لئے بھی ذکر کیا ہے کہ ہمارے کام کرنے والے نو جوان ان سے سبق سیکھیں اور دیکھیں کہ کس طرح ایک شخص بڑی عمر میں جبکہ آرام کرنے کا وقت ہوتا ہے، کام کر رہا ہے۔دکان کے کاروبار سے وہ پنشن لے چکے ہیں۔اس میں کام نہیں کرتے۔ان کا الگ کمرہ ہے جس میں اب وہ تصنیف کا کام کرتے ہیں نو جوانوں کو ان سے سبق حاصل کرنا چاہیئے۔پھر میں نے اس لئے بھی ذکر کیا ہے کہ جب کسی انسان کی خدمات اور اخلاص کے متعلق واقفیت ہو تو اس کے لئے دعا کی تحریک ہوتی ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے لڑکے کی مالی حالت ان جیسی نہیں ہے لیکن انھوں نے محض اس لئے کہ لڑکی اس خاندان میں جا کر تبلیغ احمدیت کرے، یہ رشتہ کیا ہے۔احباب دعا کریں کہ سیٹھ صاحب نے جس خواہش کے پیش نظر یہ رشتہ کیا ہے خدا تعالیٰ اسے پورا کرے اور اس خاندان میں احمدیت پھیلائے۔اس میں شبہ نہیں کہ اس قوم نے جن کو دین سمجھا اس کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں۔مالی قربانی کرنے میں یہ لوگ خوجے، میمن ، اور بورے۔بہت بڑھے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے دنیوی لحاظ سے انہیں برکت بھی دی ہے۔یہ لوگ ظاہر میں جسے دین سمجھتے ہیں۔اس کے لئے انہوں نے بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں۔ہماری جماعت میں سے جولوگ وصیت کرتے ہیں وہ دسواں حصہ دیتے ہیں اور جماعت کے مقابلہ میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔لیکن ہر خوجہ اپنی آمدنی کا دسواں حصہ دیتا ہے۔ایک جلد 21