تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 381
تاریخ احمدیت 381 جلد 21 مخلصین جماعت رقت بھرے جذبات سے دعائیں کیا ہی کرتے ہیں لیکن اس دفعہ کی دعائیں کچھ اور ہی رنگ لئے ہوئے تھیں کانفرنس میں حضرت مصلح موعود اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔حضور کے پیغام کا متن حسب ذیل تھا:۔انڈونیشیا کی جماعت بڑی پرانی ہے اور مولوی رحمت علی صاحب کے زمانہ میں قائم ہوئی تھی میں آپ لوگوں کو آپ کے اس لمبا عرصہ استقلال سے رہنے پر مبارک باد دیتا ہوں اور خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کی امداد کرے اور آپ کو تعداد میں بڑھائے۔“ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے نے اپنے پیغام میں جماعت کو احمدیت کی اشاعت کے لئے اپنی کوششیں تیز کرنے اور اس غرض کے لئے اعلیٰ نمونہ بنے نیز نیکی کے جذبہ کو آئندہ نسل میں منتقل کرنے کی تلقین فرمائی۔بعد ازاں رئیس التبلیغ نے پُر جوش خطاب فرمایا۔کانفرنس کے موقع پر جلسہ استقبالیہ بھی ہوا جس کی صدارت جناب بر مادی صاحب نے کی۔مکرم مولوی محمد زهدی صاحب نے تلاوت کی۔اس کے بعد مکرم احمد رشدی صاحب نے حکومت اور ان لوگوں کا شکر یہ ادا کیا جنھوں نے کانفرنس کے انعقاد میں مدد دی۔اس کے بعد بر مادی صاحب نے انڈونیشیا کے صدر ڈاکٹر احمد سوئیکارنو اور 11 دیگر معززین کے برقی پیغامات پڑھ کر سنائے۔اس کے بعد راڈین ہدایت صاحب نے خطاب کیا۔پھر رئیس التبلیغ صاحب نے چالیس منٹ تقریر کی۔اس استقبالیہ جلسہ میں ایک ہزار احمدی اور 500 غیر از جماعت دوست شامل ہوئے۔مہمانوں میں محکمہ جات کے افسر، ممتاز فوجی، وزارت امور عامہ مذاہب کا خاص نمائندہ اور پریس کے نمائندگان شامل تھے۔کانفرنس کے چوتھے روز ایک تبلیغی جلسہ کا انعقاد کیا گیا جس میں مکرم شکری بر مادی صاحب، مکرم میاں عبد الحی صاحب، مکرم مولوی محمد ایوب صاحب نے تقاریر کیں۔تبلیغی جلسہ کے لئے ہزاروں دعوت نامے جاری کئے گئے ان کے نتیجہ میں پر مینگو شہر سے 50 افراد جلسہ میں شامل ہوئے اسی طرح چلا چپ شہر کے اسسٹنٹ کمشنر بھی شریک جلسہ ہوئے۔کانفرنس کے آخری اجلاس سے مکرم مولوی عبد الواحد صاحب لجنہ اماء اللہ ، ناصرات الاحمد بده انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ کے ایک ایک نمائندہ ، کرتا آتما جا صاحب، حسن مورنو صاحب، مکرم میاں عبدالحی صاحب نے خطاب کیا۔کانفرنس کے موقع پر ذیلی تنظیموں کے الگ الگ اجلاس ہوئے۔