تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 275 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 275

تاریخ احمدیت 275 کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے اور جہاں جہاں یہ ٹریکٹ پہونچامتر در جماعتوں کے دل صاف ہو گئے اور سنبھل گئے اور وہ تاروں اور خطوط کے ذریعہ میری بیعت کرنے لگیں۔پھر خدا نے مجھے انہی دنوں غیر مبایعین کے متعلق الہا مابتایا کہ ”لیمز قنهم ، یعنی وہ ان لوگوں کی جمعیت کو منتشر کر دے گا۔چنانچہ تھوڑے ہی دنوں میں دنیا نے یہ عظیم الشان انقلاب اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہی جو اپنے آپ کو پچانوے فیصدی کہا کرتے تھے پانچ فیصدی رہ گئے اور جنہیں پانچ فیصدی کہا جاتا تھا وہ پچانوے فیصدی بن گئے۔یہ فوج آخر کہاں سے آئی۔بعض نادان یہ خیال کرتے ہیں کہ چونکہ اس وقت میرے ساتھ جماعت زیادہ ہے اس لئے میں ترقی کر رہا ہوں مگر میں کہتا ہوں جب ان کے دعوے کے مطابق میرے ساتھ صرف پانچ فیصدی جماعت تھی تو اس وقت کون تھا جس نے مجھے پانچ سے پچانوے فیصدی تک جماعت کو لے جانے کی توفیق بخشی پھر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ میں نے اس عرصہ دراز میں صرف غیر مبایعین کا ہی مقابلہ نہیں کیا بلکہ میں نے عیسائیوں کا بھی مقابلہ کیا ہے میں نے ہندوؤں کا بھی مقابلہ کیا ہے اور میں نے غیر احمدی مسلمانوں کا بھی مقابلہ کیا ہے۔اور وہ کروڑوں کی تعداد میں تھے۔اگر انسانوں پر ہی میری طاقت کا انحصار ہوتا تو کروڑوں مخالفوں کے مقابلہ میں میری ہستی ہی کیا تھی۔مگر وہ کروڑوں ہونے کے باوجود مجھے خدا کے فضل سے نا کام نہ کر سکے اور ہر دن جو مجھ پر چڑھا وہ میری کامیابیوں کو زیادہ سے زیادہ روشن کرتا چلا گیا اسی طرح جب تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد اندرونی منافقوں نے سر نکالا اور جماعت میں انہوں نے فتنہ پیدا کرنا چاہا تو اس وقت بھی صرف خدا ہی تھا جس نے میری مدد کی اور میں احمدیت کی کشتی کو پُر خطر چٹانوں میں سے گزارتے ہوئے اسے ساحل کامیابی پر لے گیا آج بھی ایسے بیسیوں لوگ زندہ ہوں گے جو یہ جانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب وفات پاگئے تو انہی غیر مبایعین کے سرکردہ اصحاب نے جو اس وقت صدر انجمن احمد یہ پر قابض تھے یہ فیصلہ کیا کہ سلسلہ کا جو روپیہ علماء تیار کرنے پر خرچ ہو رہا ہے یہ بے فائدہ ہے۔مدرسہ احمدیہ کو بند کر دینا چاہیے۔اور صرف ہائی سکول میں دینیات کی تعلیم رکھ کر گزارہ کرنا چاہیے۔چنانچہ انھوں نے تمام جماعتوں کو ایجنڈا بھیجا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد پہلے جلسہ جلد 21