تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 266
تاریخ احمدیت 266 جلد 21 جلسہ سالانہ ربوہ 1961ء فصل ششم يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ “ کے خدائی وعدہ کے مطابق اس سال 85 ہزار عشاق احمدیت ربوہ کے جلسہ سالانہ میں شامل ہوئے جو دعاؤں، ذکر الہی اور انابت الی اللہ کی مخصوص روایات کے ساتھ 26، 27، 28 دسمبر 1961 ء کو منعقد ہوا۔278 یہ جلسہ 26 دسمبر کو اس درد ناک حال میں شروع ہوا کہ عین اسی روز صبح کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر فرزند اور آپ کی صداقت کے عظیم نشان حضرت مرزا شریف احمد صاحب رحلت فرما گئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب پونے دس بجے صبح جلسہ گاہ میں تشریف لائے اور احباب جماعت کو اس الم ناک حادثہ سے اطلاع دی تو جلسہ گاہ میں ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک یکدم رنج والم اور حزن و ملال کی لہر دوڑ گئی اور شدت غم کے باعث احباب کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔حضرت میاں صاحب نے اس موقع پر ایک پر درد خطاب میں احباب کو صبر کی تلقین فرمائی بہر کیف اس صدمہ عظیم نے جلسہ کے پورے ماحول کو سوز و گداز اور رقت کی ایک خاص کیفیت میں بدل ڈالا اور احباب جماعت نے جلسہ کے مبارک ایام پہلے سے بھی زیادہ توجہ اور انہماک کے ساتھ ربانی باتوں کے سننے اور ذکر الہی میں بسر کئے۔بیت مبارک اور بیت محمود میں ہر شب التزام کے ساتھ باجماعت نماز تہجد ادا کی گئی جو علی الترتیب حافظ محمد رمضان صاحب فاضل اور حافظ محمد عبد السلام صاحب وکیل المال تحریک جدید نے پڑھائی۔آخری حصہ شب میں خدا کے یہ دونوں گھر نمازیوں سے اس طرح پر ہوتے کہ لوگوں کو ان میں جگہ ملنی مشکل ہو گئی اور بہت سے احباب کو کھلے صحن میں نماز پڑھنی پڑی۔خصوصا بیت مبارک اپنی وسعت کے باوجود سخت نا کافی ثابت ہوئی۔ہر چند کہ اس کے نصف حصہ صحن پر شامیانے نصب تھے تاہم جن احباب کو ان کے نیچے بھی جگہ نہ ملتی وہ شدید سردی کے باوجود کھلے صحن کے سیمنٹ سے تیار شدہ ٹھنڈے اور یخ بستہ فرش پر ہی نماز ادا کرتے رہے۔اسی حالت میں وہ سجدوں کے دوران اللہ تعالیٰ کے حضور اس قدر تضرع اور آہ وزاری کے ساتھ دعائیں کرتے رہے کہ پوری فضا ہچکیوں اور سسکیوں کی دردناک آوازوں سے گونج اٹھتی تھی۔اس طور سے مسلسل تین دن تک اللہ تعالیٰ کے حضور دنیا میں غلبہ حق اور حضرت مصلح موعود کی صحت یابی کے لئے نہایت سوز و گداز سے اجتماعی دعائیں کی گئیں اور ذکر الہی اور پُر سوز دعاؤں کے باعث ربوہ کی مقدس سرزمین جلسہ کے مبارک ایام میں ہزاروں مومنین کی سجدہ گاہ بنی رہی۔