تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 256
تاریخ احمدیت 256 دل، غریب طبیعت، دل کے بادشاہ، عالی حوصلہ، صابر متحمل مزاج وجود تھے۔اس لئے نہیں کہ وہ میرے بھائی تھے بلکہ اس کو الگ رکھ کر کوئی بطور سچی شہادت کے مجھ سے ان کی بابت سوال کرے تو میں یہی کہوں گی کہ وہ ایک ہیرا تھے نایاب۔وہ سراپا شرافت تھا۔ایک چاند تھا جو چھپارہا اکثر۔اور چھپے چھپے چپکے چپکے رخصت ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کی آغوشِ رحمت میں پہنچ گیا۔ان کے دکھ اور درد آخر ختم ہو گئے گو ہمارے دلوں میں بے شک انکی یاد اور درد جدائی قائم رہے گا۔اللہ ہم سب کو دعاؤں سے خدمت کی توفیق دے اور ان کو اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین۔میری اور انکی عمر میں بہت کم فرق تھا۔ہر وقت کا ساتھ اکٹھے کھیلنا کودنا اور چھوٹے بھائی بہت شوخ وشنگ تھے بچپن میں مگر ہم کبھی نہیں لڑے۔مجھے ایک بار بھی کبھی انہوں نے نہیں ستایا بلکہ ہمیشہ میرا ہی کہا مان لیتے۔شادی ہوئی تو دوہرا رشتہ ہوا۔میرے میاں کے داماد بنے اور کسی سال پھر بوزینب ( بیگم حضرت مرزا شریف احمد صاحب ) کی علالت کے سلسلہ میں ہمارے ہاں ٹھہرے اور ا کھٹے ایک گھر میں رہے۔دنیا میں جیسا کہ ہو جاتا ہے ہوسکتا ہے کہ انکی یکجائی کے ایام میں کسی وقت کوئی بدمزگی ہو جاتی یا کوئی فرق برادرانہ تعلق میں آجا تا مگر نہیں ہرگز نہیں۔” میرا بھائی میرا بھائی ہی بنارہا۔لوگوں کی نظروں میں یہ ایک معمولی بات ہو سکتی ہے مگر میری نگاہ میں اس بات کی بے حد قد رتھی اور رہی اور اب دکھ کے ساتھ وہ اپنے چھوٹے بھائی انکی محبت انکی نرم و پیار بھری آواز اور اب انکی بیماری کے ایام اتنی تکلیف ہر وقت اٹھانا یاد آ کر دل کو بے قرار کر دیتا ہے۔آپ نے ایک اور مضمون میں تحریر فرمایا کہ: ”میرے پیارے چھوٹے بھائی کے لئے الفضل میں جتنی طاقت تھی لکھ چکی ہوں۔اب تک ان کا ذکر آتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے۔ان کا نام سن کر آنسو نکل پڑنا چاہتے ہیں جن کو پی جانا پڑتا ہے۔کیا لکھوں۔مگر جولکھوں ایک لفظ بھی مبالغہ آمیز نہ ہو گا۔نام شریف۔دل شریف۔تعلقات عزیز داری شریفانہ۔قلب صافی۔ہمدرد۔پھر ہر ایک کے غمگسار۔غریبوں کی امداد اپنی طاقت سے بڑھکر کرنے والے جسکو صورت دیکھ کر بھی ضرورت مند محسوس کیا جیب جھاڑ دی۔خود مقروض بلکہ اکثر حاجتمندوں کے قرضے اتارے۔کام چلوا دئے۔غرض بادشاہ دل لے کر پیدا ہوئے تھے۔مگر اپنی زندگی سادگی 256- جلد 21