تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 214
تاریخ احمدیت 214 جلد 21 کہہ ہو گئے۔مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود خاندان مسیح موعود اور جماعت کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا اور آپ کو معجزانہ طور پر شفا بخشی جس کے بعد آپ کم و بیش بارہ سال تک زندہ رہے۔(اس دوران آپ نے 1956 ء میں سندھ کا طویل سفر بھی کیا۔) بیماری کے اس حملہ کے وقت حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ راولپنڈی میں تھیں، آپ کسی طرح راولپنڈی سے لاہور پہنچیں اور آپ کی تیمارداری کا حق ادا کیا۔اس کی تفصیل خود آپ کے قلم سے لکھنا مناسب ہوگا۔آپ تحریر فرماتے ہیں: اس مہر و وفا کی مجسم نے جب میری بیماری کی اطلاع راولپنڈی میں پائی تو نہایت درجہ پریشانی کی حالت میں فوراً لاہور پہنچیں۔لیکن کیا مجال میرے پر اپنی گھبراہٹ کا اظہار ہونے دیا ہو۔پھر اس قدر تند ہی اور جانفشانی سے میری خدمت میں لگ گئیں کہ میں نہیں کہ سکتا کہ کوئی دوسری عورت اسقدر محبت اور پیار کے جذبہ سے اپنے خاوند کی خدمت کر سکتی ہو۔اس اللہ تعالیٰ کی بندی نے اپنے اوپر آرام کو حرام کر لیا۔رات دن جاگتے ہوئے کاٹتی تھیں۔کمرہ تنگ تھا۔اس لئے دوسری چار پائی کمرہ میں بچھ نہیں سکتی تھی اس لئے یہ ناز و نعمت کی پلی جو کہ ریشم اور اطلس کے لحافوں کی عادی تھی زمین پر چند منٹ کے لئے سر ٹیک کر آرام لے لیتی تھی۔بلکہ زمین پر نہیں ایک تخت پوش نماز کے لئے بچھا ہوا تھا اس پر چند منٹ کا آرام اگر میسر آجائے تو آجائے ورنہ ہر وقت چوکس ہوشیار۔میرے کام کے لئے مستعد ہوتی تھیں۔یہ نہیں کہ کوئی اور میرا خبر گیراں نہ تھا۔ان ایام میں ملازموں کے علاوہ تمام عزیز اور رشتہ دار میری خدمت میں لگے ہوئے ( تھے )۔۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوتیاں اور نواسیاں اس محبت اور جذبہ سے خدمت میں لگی ہوئی تھیں کہ اگر میں اس حالت میں مر بھی جاتا تو یہ بھی میرے لئے ایک روحانی انبساط کا موجب ہوتا۔۔لیکن میری باوفا پیاری بیوی نے کسی کی امداد پر بھروسہ نہ کیا بلکہ ان کی یہی خواہش اور آرزو ر ہتی تھی کہ خود ہی میرا کام کریں۔1949ء کی بیماری کے نتیجہ میں آپ کو پانچ سال تک چار پائی پر رہنا پڑا۔اس کے بعد آپ پہیہ دار کرسی سے چلنے پھرنے لگے اور سلسلہ کے کاموں مثلاً چندوں اور نمازوں کی تلقین اور بعض ذاتی امور کے لئے موٹر پر تشریف لے جایا کرتے تھے۔185 آپ نے اپنی وصیت میں اولاد کو نہایت بیش قیمت نصائح کرتے ہوئے لکھا:۔” میری دعا اور آرزو ہے کہ میری اولا د خلافت سے منسلک رہے۔اور ہمیشہ اس گروہ کا