تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 196
تاریخ احمدیت 196 گنا زیادہ تھے اس وقت کوئی کالج منظور نہ ہوا تھا۔ذالك فضل الله يؤتيه من يشاء تعداد طلباء: چونکہ یہ کالج ہائر سیکنڈری سکول کی صورت میں منظور ہوا ہے اس لئے اس میں گیارہویں اور بارہویں کلاسوں کے ساتھ نویں اور دسویں کلاسیں بھی شامل ہیں۔محکمہ تعلیم نے حکومت کے ایجوکیشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق ان چاروں کلاسوں کا ایک بلاک بنایا ہے اور اسے ہائر سیکنڈی کا نام دیا ہے۔اس وقت کلاسوار طلباء کی تعداد حسب ذیل ہے: (1) (3) IX کلاس 54 (2) X کلاس 55 ا کلاس 22 اس نئے داخلے کے وقت انشاء اللہ العزیز X کلاس بھی شروع ہو جائے گی۔اور چاروں کلاسوں میں نیا داخلہ لیا جائے گا۔و ما توفیقی الا بالله العظيم ہوسٹل چند ماہ قبل ہوٹل کا کوئی انتظام نہ تھا۔مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوٹل کی عمارت کا نقشہ اور اسٹیمیٹ تیار کیا گیا ہے اور امید ہے کہ مارچ اپریل 62ء میں جب اشتمال اراضی کا کام مکمل ہو جائے گا تو ہوسٹل اور سٹاف کواٹرز کا کام شروع ہو سکے گا۔فی الحال 35/40 طلباء کے ٹھہرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔اس وقت بھی بعض طلباء کے ذوقِ علم کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے کھانا پکاتے ہیں اور یہیں کالج کے ایک کمرہ میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔انتظامیہ میٹی کے دس ارکان ہیں جو بحیثیت ایک آرگنائیزیشن۔رجسٹرار صاحب آف کو اپر میٹو سوسائٹی کی طرف سے منظور شدہ ہیں۔ان کے صدر محترم با بو قاسم دین صاحب امیر جماعت احمد یہ سیالکوٹ ہیں۔محترم بابو صاحب باوجود پیرانہ سالی کے کالج کے معاملات میں بے حد دلچسپی لیتے ہیں۔اور نقشہ جات تیار کرنے، نیز متعد دامور کی تکمیل کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے۔اس مقام پر یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ محترم جناب چوہدری شاہنواز صاحب نے کالج کی امداد کے لئے مبلغ دس ہزار روپیہ اور مکرم چوہدری محمد علی صاحب رئیس باندھی ( سندھ) نے کالج کے کمرہ جات کی تعمیر کے لئے مبلغ چھ ہزار روپیہ کا وعدہ اور ادائیگی فرمائی۔اللہ تعالیٰ ان دوستوں کو خدمت سلسلہ کی مزید توفیق عطا فرمائے اور ان کا حافظ و ناصر ہو۔والسلام جلد 21