تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 11
تاریخ احمدیت 11 جلد 21 میں اپنے حالات ایک کتاب کی صورت میں شائع کروں گا۔اس تقریب کی صدارت جناب شیخ رحمت اللہ صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی نے فرمائی۔تحریک احمدیت علامہ نیا بنچو ری صاحب کی نظر میں : رفتی علامہ نیاز فتحپوری صاحب نے رسالہ نگار‘ اکتوبر 1960ء میں ایک غیر احمدی دوست جناب سید نصیر حسین صاحب سہارنپوری کے ایک خط کا جواب شائع کیا۔خط اور علامہ کا جواب درج ذیل کیا جاتا ہے: خط : سید نصیر حسین سہارنپور : جواب: کچھ زمانہ سے آپ احمدی جماعت کی طرف داری میں اظہار خیال کر رہے ہیں اور اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ان سے بہت متاثر ہیں لیکن شائد آپ کو معلوم نہیں کہ وہ غیر احمدی مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں۔وہ اس حد تک متعصب ہیں کہ عام مسلمانوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات بھی ناجائز سمجھتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔وہ اپنے سواسب کو کافر کہتے ہیں اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اب رہا میرزا غلام احمد صاحب کا دعوئی مہدویت و مسیحیت و نبوت۔سو اس کی بابت میں مشورہ دوں گا کہ آپ جناب الیاس برنی کی کتاب فتنہ قادیانیت کا مطالعہ فرمائیے۔اسکے پڑھنے سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ مرزا صاحب کے دعوے کتنے لغو و باطل تھے۔(1) اس میں شک نہیں میں احمدی جماعت سے کافی متاثر ہوں اور اس کا سبب صرف یہ ہے کہ اس وقت ان تمام جماعتوں میں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہیں صرف احمدی جماعت ہی ایک ایسی جماعت ہے جس نے صحیح معنی میں اسلام کی حقیقت کو سمجھا ہے۔لیکن مشکل یہ ہے کہ آپ کیا ساری دنیا نے اسلام کو چند مخصوص عقائد میں محدود کر دیا ہے اور اس سے ہٹ کر کبھی یہ غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی کہ اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کے عروج کا تعلق صرف عقائد سے نہ تھا بلکہ اطوار وکردار اور حرکت و عمل سے تھا۔محض یہ عقیدہ کہ اللہ ایک ہے اور رسول برحق اپنی جگہ بالکل بے معنی سی بات ہے اگر اس