تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 153 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 153

تاریخ احمدیت 153 یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کر یم میت کو تم میں پیدا کیا اور اس طرح تم پر اپنے فضل و کرم کی بارش کی۔اور اس کی وجہ سے تم لوگوں پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جو تمہیں بہر حال بطیب خاطر ادا کرنی ہوں گی اور مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے اس نکتہ کو سمجھ بھی لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو ہم میں پیدا کر کے ہمارا غیر معمولی اعزاز فرمایا ہے اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب اسلام کو دشمن نے تلوار سے مٹانا چاہا اور اسلام کو دفاعی جنگ لڑنا پڑی تو مسلمانوں نے عراق۔شام۔فلسطین۔ایران۔مصر۔مغرب اقصیٰ سپین۔سلی۔سندھ اور پھر کابل سے اوپر کے علاقوں میں نہایت اعلیٰ قربانی کا مظاہرہ کیا۔وہ اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر اسلام کی خاطر دشمن سے سینہ سپر ہوئے۔اکثر اسکی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔لیکن اپنی زندگی میں انہوں نے اسلام کے جھنڈے کو ہمیشہ سر بلند رکھا۔اور جہاں جہاں اور جس علاقہ میں بھی اسلام کا سورج طلوع ہوا۔وہ اسی تالاب سے ہوا۔جو مسلمان صحابہ کے خون اور آنسوؤں سے پیدا ہوا تھا۔یہ ساری باتیں نتیجہ تھیں اس احساس کا جو ان لوگوں میں پیدا ہوا۔انہوں نے قربانیاں پیش کیں اور خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت انہیں حاصل ہوئی۔غرض اوائل زمانہ کے مسلمان اس نکتہ کو سمجھ گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہمارے اندر مبعوث ہوا ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ احسان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو عملی نمونہ بنا ئیں اور پھر وہ نمونہ ہمارے بعد بھی قائم رہے۔اب بھی اللہ تعالیٰ کا ایک مرسل ہمارے اندر پیدا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ہم پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ ہمیں ہر گز نہیں بھلانی چاہئے۔ہمیں تحریک جدید کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانا چاہئے تا دنیا کو معلوم ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تعلق حق و صداقت کے ایک مینار سے ہے اور مینار جتنا بلند ہو اتنی ہی اس کی روشنی پھیلتی ہے۔اگر ایک مینار دس گز بلند ہو تو اس کی روشنی چند فرلانگ تک پھیلے گی اور اگر وہ چند سو گز کا ہے تو چند میلوں تک کے علاقہ کو روشن کرے گا۔ہما را قادیان کا مینارہ اسیح جو ہم نے ظاہری طور پر پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے تعمیر کیا تھا وہ صرف چند میل کے علاقے کو روشن کرتا تھا لیکن یہ مینار جس سے ہمارا تعلق ہے یہ بلند تر ہے۔اس سے بلند اور کوئی مینار نہیں۔یہ وہ مینار ہے جس کے اوپر روحانیت کے قمقمے روشن ہیں اور انہوں نے اپنے ارد گرد کے تمام علاقہ کو جلد 21