تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 152
تاریخ احمدیت 152 جلد 21 93 ،، صاحب موصوف ہی جماعتوں سے تین نمائندے خود منتخب فرما لیں۔اس بورڈ کا یہ بھی فرض ہو کہ وہ صدر انجمن احمدیہ اور مجلس تحریک جدید اور مجلس وقف جدید میں رابطہ قائم رکھے۔رائے شماری پر سوائے ایک نمائندہ کے باقی تمام نمائندگان نے سب کمیٹی کی سفارش کے حق میں ووٹ دئے اور سیدنا حضرت مصلح موعود نے بھی اسے منظور فرمالیا اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نگران بورڈ کے صدر مقرر ہو گئے اور آپ نے امراء کے مشورہ سے محترم مرزا عبد الحق صاحب ایڈووکیٹ علاقائی امیر سرگودھا جناب شیخ بشیر احمد صاحب حج ہائیکورٹ ٹمپل روڈلاہور مکرم چوہدری انور حسین صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت شیخو پورہ کو بورڈ میں بطور جماعتی نمائندوں کو شامل فرمایا۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر صدر انجمن احمدیہ نے مشاورت کے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 94- میں احباب کو تحریک جدید انجمن احمد یہ اور صدر انجمن احمد یہ کے دونوں بجٹوں کے خلاصوں کی طرف توجہ دلا تا ہوں۔ان سے بہت سی چیزیں نمایاں ہوتی ہیں۔ان میں سے ایک کا ذکر میں اس وقت کروں گا اور وہ یہ ہے کہ تحریک جدید انجمن احمد یہ اور صدرانجمن احمدیہ کو پاکستان کی جماعتوں کے چندوں سے جو آمد ہوتی ہے وہ 27,63,418 روپے سالانہ ہے۔اس کے مقابل میں بیرونی ممالک کے احمدیوں کا چندہ 14,18,480 روپے سالانہ ہے۔بظاہر پاکستانی چندہ بیرونی چندہ کی نسبت دو گنا ہے لیکن ہم اس طور پر بجٹ پر غور کریں کہ ہم اس بجٹ میں سے کس قدر بیرونی مشنوں پر خرچ کر رہے ہیں۔تو تصویر بالکل بدل جاتی ہے۔اس وقت صرف 75,000 روپے سالانہ کی رقم پاکستان سے بیرونی مشنوں کو جا رہی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ فارن ایکسچینج (FOREIGN EXCHANGE) نہیں ملتا۔لیکن کبھی کبھی مساجد کی تعمیر کے سلسلہ میں گورنمنٹ سپیشل اجازت دے دیتی ہے۔اگر ہم روپوں کی زبان میں بجٹ کا جائزہ لیں تو باہر خرچ ہونے والی رقم میں بیرونی جماعتوں کا چندہ پاکستانی جماعتوں کے چندہ کی نسبت پندرہ سولہ گنے زیادہ ہے۔یہ چیز جب بھی ہمارے سامنے آتی ہے ہمیں شرمندگی کا احساس ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہم اردو اور پنجابی بولنے والوں میں پیدا کیا ہے اور اس وجہ سے پاکستان کی جماعت پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عاید ہوتی ہے۔قرآن کریم میں اس نکتہ کو بیان کیا گیا ہے کہ اے عربو! تمہیں