تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 144
تاریخ احمدیت 144۔وہ حجر اسود کے طواف کرنے اور اس کو بوسہ دینے کے لئے جانا چاہتے ہیں تو انکو ایک سپاہی روک کر کہتا ہے کہ انت ممنوع ان بحج الا باذن الملک۔خاکسار نے ان کو تعبیر بتائی کہ آپ امام مھدی علیہ السلام پر ایمان لانا اور انکی بیعت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ امام زمان ہی دراصل وہ مبارک وجود ہوتا ہے جس کا لوگ طواف کرتے اور اس کو بوسہ دیتے ہیں۔مگر آپ کو یہ سعادت صرف خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی نصیب ہوسکتی ہے۔اور آپ کے لئے سخت ڈرنے کا مقام ہے کہ اگر آپ نے ستی کی تو بد نصیب رہنے کا مقام ہے۔مگر رستہ موجود ہے۔لیکن اجازت کی ضرورت ہے۔اس لئے آپ کو بادشاہ ارض و سما جو کہ حقیقی بادشاہ ہے اس کے حضور دعاؤں پر بڑا زور دینا چاہئے تا کہ جرات پیدا ہو۔اور اس کا فضل واجازت نازل ہو۔الغرض اس خواب میں اللہ تعالیٰ نے سائل کو صحیح اور مکمل جواب عطا فرما دیا اور اس پر حجت تمام کر دی۔وہ دوست زیرتبلیغ تھے۔دعا ہے مولا کریم انکو حق کے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے ہمیں شریر لوگوں کے شر سے محفوظ رکھا اور جب کبھی کسی نے شرارت کرنی چاہی تو اسکا کچھ نہ بنا۔چنانچہ ایک موقع پر پہاڑ بحمدون میں ایک مشہور شیخ محمد المناصفی نے خاکسار کے خلاف وہاں کی مسجد میں چند لوگوں کو میرے خلاف کرنا چاہا تو اس موقع پر خاکسار نے ان لوگوں کے سامنے احمدیت کے عقائد کی تشریح کی جو ان لوگوں کو سمجھ میں آگئی اور نیز خاکسار نے ان شیخ صاحب کے جھوٹے الزاموں کی بھی تردید کر کے دکھائی جس پر وہ لوگ خود اس شیخ کے خیالات کی تردید کرنے لگے اور اس پر ہنسنے لگے۔اس کے علاوہ لبنان کے چوٹی کے ایک عالم وادیب الشیخ عبد اللہ الصلایلی کے ساتھ کئی مرتبہ تبادلہ خیالات ہوا۔اس عالم کو حکومت کی طرف سے ہزار ہالرات کا انعام واکرام اس کی ادبی و علمی خدمات پر مل چکا ہے۔یہ شیخ صاحب بھی وفات مسیح کے قائل ہوئے اور انہوں نے کئی بار اس بات کا اظہار و اعتراف کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔نیز انہوں نے جماعت احمدیہ کی دینی خدمات کی بے حد تعریف کی اور کہا کہ اس جماعت نے اس زمانہ میں اسلام کی لاج رکھ لی ہے۔انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ وفات مسیح کے متعلق با قاعدہ مدلل تحریر لکھ کر مجھے دیں گے۔جلد 21