تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 115 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 115

تاریخ احمدیت 115 جلد 21 اٹھائیں کہ ہمیں اجازت کیوں نہیں دی جا رہی۔انہی دنوں انگلینڈ میں پارلیمنٹ کا ایک وفد نائیجیریا آیا جن میں لیبر پارٹی کے ایک ممتاز رکن MR۔FENNER BROCK WAY بھی تھے جو بعد میں LORD BROCK WAY بنا دے گئے۔ہم لوگوں نے ان سے نائجیریا میں ملاقات کی اور یہ معاملہ ان تک پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ واپس پہنچ کر وہ کالونیکل سیکرٹری سے پتہ کروائیں گے۔لارڈ برا کوے نے اپنے طور پر گیمبیا سے حالات کا پتہ کروایا تو معلوم ہوا کہ وہاں کا پڑھا لکھا طبقہ اس بات کا شدید خواہشمند ہے کہ جماعت احمدیہ کا مشن وہاں کھولا جائے۔کیونکہ مغربی افریقہ کی دیگر نو ابادیات میں جماعت احمد یہ مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ کے لئے بہت کام کر رہی ہے۔اجازت ملنے سے قبل مکرم نسیم احمد سیفی صاحب نے مرکز کی اجازت سے یہ اہتمام کیا کہ جتنی دیر ہمیں پاکستانی مبلغ کے داخلہ کی اجازت نہیں ملتی ہم کسی افریقن احمدی دوست کو بطور مبلغ وہاں بھجوا دیں۔گیمبیا میں اسوقت جماعت قائم ہو چکی تھی اور انہیں تربیت اور تبلیغ کے لئے ایسے شخص کی ضرورت تھی جو احباب جماعت میں تنظیم کے علاوہ پاکستانی مبلغ کے آنے کے لئے راہ ہموار کرے۔چنانچہ احباب کے صلاح ومشورہ کے ساتھ نائجیر یا جماعت کے ایک مخلص سمجھ دار اور جماعتی لٹریچر سے واقف کار دوست مسٹر حمزہ سینالو صاحب کو گیمبیا بھجوایا گیا۔انہوں نے وہاں پر چھ ماہ تک کام کیا۔تبلیغ وتربیت کا سلسلہ جاری رکھا۔وہ اپنی کار کردگی کی رپورٹ مولانا سیم سیفی کو بھجواتے رہے۔اس کے بعد غا نامشن کی طرف سے وہاں کے دیرینہ تجربہ کار مبلغ جناب جبرئیل سعید صاحب کو گیمبیا بھیجا گیا۔۔۔۔انہیں وہاں تبلیغ کی ممانعت نہ تھی بالخصوص اس لئے بھی کہ جماعت المؤمنین نے مکرم سیفی صاحب کو وہاں کے مقتدر احباب کے دستخطوں کے ساتھ ایک اپیل بھجوائی تھی جس میں درخواست کی گئی تھی کہ انہیں پاکستانی مبلغ بھجوایا جائے۔مسٹر حمزہ اور جناب جبرئیل سعید صاحب نے نہایت اخلاص اور تندہی سے ملک کا دورہ کیا۔ان کی رپورٹ کے مطابق 1960 ء تک اس ملک میں احمدیوں کی تعداد 800 تک پہنچ چکی تھی۔13 اس دوران گیمبیا کے مخلص احمدیوں نے غوث مصطفیٰ کیفا صاحب کو اپنا صدر منتخب کر لیا اور ایک