تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 112 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 112

تاریخ احمدیت 112 جلد 21 باتھرسٹ کی ایک سترہ اٹھارہ سالہ لڑکی جو گیمبیا حکومت کے انعامی وظیفہ پر سیرالیون ٹیچرز ٹریننگ کالج میں ٹریننگ کے لئے گئی۔اس نے فری ٹاؤن میں سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب کی شائع کردہ کتاب ( THE MUSLIM PRAYER) حاصل کی اور اپنے ایک عزیز رشتہ دار کو باتھرسٹ میں بطور تحفہ کرسمس بھیجی۔اس عزیز کے ایک دوست لیمن ولی انجاۓ (L'AMIN W۔N'JIE) تھے۔وہ ایک دن اس عزیز سے ملنے گئے۔اتفاقاً انکی نظر اس کتاب پر پڑی اور وہ اس کی اجازت سے دو تین دن کے لئے اسے گھر لے آئے۔معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نماز پر احمد یہ مشن کی مہر لگی ہوئی تھی یا اسکا پتہ لکھا ہوا تھا اس لئے انہوں نے نائیجیریا مشن کو اسلامی لٹریچر بھجوانے کی بذریعہ خط درخواست کی۔اس پر مولانا نسیم سیفی صاحب انچارج نائیجیریا مشن کی طرف سے اسے کچھ کتابیں (جن میں قرآن شریف کا پارہ اول مع انگریزی ترجمہ وتفسیر شائع کرده صدر انجمن احمد یہ قادیان بھی تھا) بذریعہ ڈاک موصول ہوئیں۔لیمن ولی انجائے کے دل و دماغ پر ایسا فوری اثر ہوا اور وہ داخلِ احمدیت ہو گئے۔اور ساتھ ہی یہ زبر دست تڑپ پیدا ہوئی کہ ان کے ملک میں بھی احمد یہ مشن کھولا جائے۔چنانچہ انہوں نے مولا ناسیم سیفی صاحب کو اس بارے لکھا نیز استدعا کی کہ وہ خود بھی یہاں تشریف لائیں۔مولانا سیفی صاحب نے گیمبیا آنے کی اجازت چاہی مگر انہیں ویزا نہ دیا گیا۔اسکے علاوہ سیرالیون سے بھی بعض مبلغین احمدیت نے اجازت نامے طلب کئے مگر حکومت کی طرف سے جواب نفی میں ملا۔ان مخالف حالات کے باوجود مسٹر لیمن ولی انجائے کے عزم واستقلال میں کوئی فرق نہیں آیا۔انہوں نے اپنے حلقہ احباب میں زور و شور سے تبلیغ شروع کر دی اور 5 نوجوانوں یعنی غوث مصطفی کیفا (KEITA) ، ابراهیم آلیور علی مختار با عمر ولی جوف اور علی ابراھیم حصے کو اپنا ہم خیال بنالیا اور حکومت گیمبیا کو درخواست دی کہ یہاں احمد یہ مشن قائم کرنے کی اجازت دی جائے۔اُدھر مولا نانسیم سیفی صاحب نے بھی حکومت گیمبیا کولکھا کہ جماعت احمد یہ اپنے ایک پاکستانی مبلغ مبارک احمد صاحب ساقی کو بھجوانا چاہتی ہے۔انکے ویزے کی منظوری دی جائے۔یہ فروری 1953ء کی بات ہے۔مگر انہیں بھی حکومت نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔دراصل گیمبیا میں دو مسلمان پارٹیاں ہیں 'مسلم کانگریس اور جماعت المؤمنین۔جماعت المؤمنین مبلغ آنے کے حق میں تھی اور مسلم کانگریس مخالف۔مسٹر یمن ولی انجائے کی درخواست گورنر صاحب گیمبیا کے سول سیکرٹری نے باتھر سٹ کالونی کے چیف امام صاحب کو بھیج دی کہ وہ اس بارے میں اپنی رائے دیں۔چیف امام صاحب نے کونسل کے ممبران سے مشورہ کر کے جواب دیا کہ احمد یہ مشن کا قیام گیمبیا میں مناسب نہیں کیونکہ احمدی نہ مالکی ہیں نہ شافعی نہ حنبلی۔اس پر حکومت نے صاف جواب دے دیا کہ چونکہ چیف امام صاحب اور ان کی کونسل احمد یہ مشن کے قیام کے حق میں نہیں اس لئے اجازت نہیں دی جاسکتی۔