تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 108 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 108

تاریخ احمدیت 108 کر دکھایا ہے کہ ایک انسان جتنا اچھا تعلیم یافتہ ہوگا اتنا ہی اچھا وہ مسلمان بن سکتا ہے۔چونکہ احمدی مبلغین اعلی قسم کی تعلیم و تربیت سے آراستہ ہوتے ہیں اس لئے وہ زیادہ بہتر طریق پر اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ مغربی تعلیم اسلام کی دشمن نہیں ہے۔ان کا نظریہ یہ ہے کہ اس تعلیم سے اس رنگ میں فائدہ اٹھانا چاہئے کہ یہ ہمارے لئے اپنے مذہب کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے کا ایک موثر ذریعہ ثابت ہو اور ساتھ ہی ہمیں ایسے اوصاف سے متصف کر دے کہ ہم مساویانہ بنیاد پر دوسروں کے ہم پلہ مقام اپنے لئے پیدا کر سکیں۔بسا اوقات کہا جاتا ہے کہ قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔یہ مقولہ بہت بڑی صداقت پر مبنی ہے۔یہ حقیقت کہ احمدیوں نے اپنا پر لیس بھی قائم کر لیا ہے اور وہ مقامی طور پر یہاں کی سرکاری زبان انگریزی اور اسی طرح عربی میں اخبارات شائع کر سکتے ہیں۔ان کی دور بینی پر گواہ ہے اور وہ دور بنی یہ ہے کہ یہ لوگ ( قلم کی طاقت سے پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے ) اس ملک میں اسلام کے مشن کو مستحکم بنانے اور اس کے حلقہ اثر کو وسیع کرنے کے لئے پرامن ذرائع سے اثر و نفوذ حاصل کرنے کے طریقوں پر عمل پیرا ہیں۔ہم سب کو اس امر پر بھی جماعت احمد یہ سیرالیون کو مبارک باد دینی چاہئے کہ اس نے اس ملک میں مسلمانوں کے مفاد کی خاطر اور اہلِ سیرالیون کی عمومی خدمت کے پیش نظر ایک ممتاز مسلمان ڈاکٹر کو یہاں بلوایا ہے اور اس کی طبی خدمت سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔میں نے اس وقت جماعت احمدیہ کے بہت سے کارنامے گنوائے ہیں جو اس نے یہاں ہمارے درمیان سرانجام دئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ ان سب کارناموں کا ہم سب کیا اثر قبول کرتے ہیں اور ہماری طرف سے کیا رد عمل ظاہر ہوتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا ہم میں سے ہر ایک کو جواب دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں اس سوال کو آپ کے سامنے پیش کر کے رخصت ہوتا ہوں۔مجھے یقین ہے کہ زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ احمدیوں نے یہاں ہمارے لوگوں کے درمیان جو بیداری پیدا کی ہے اس کے واضح اور نمایاں آثار ظاہر ہونے شروع ہو جائیں گے۔“ یہ امر قابل ذکر ہے کہ میئر آف فری ٹاؤن ایلڈرمین اے۔ایف۔رحمن نے اپنی اس تقریر میں جماعت احمدیہ کی طرف سے قائم ہونے والے جس پہلے سیکنڈری سکول کے اجراء کا جلد 21